اسلام آباد: اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ مولانا کی یہ بات صحیح ہے کہ پاسپورٹ کے بغیر کرتارپور کسی کو نہیں آنے دینا چاہئے، حکومت زائرین کو باقی سہولیات ضرور دے لیکن پاسپورٹ کی شرط ساتھ رکھے، پاسپورٹ ہوگا تب ہی یہاں آنے جانے والوں کا ریکارڈ ہوگا۔ جیونیوز کے پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘ میں گفتگو کرتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی نے آزادی مارچ سے متعلق کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی کیلئے پُرامید ہوں، مولانا کے ساتھ بات چیت میں دن بدن بہتری آتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی کمیٹی نیک نیتی سے جلد از جلد معاملات حل کرنا چاہ رہی ہے کیونکہ پہلے ہی کافی تاخیر ہو چکی، مولانا کو باور کروایا ہے کہ الیکشن نتائج پرتحفظات کے لیے متعلقہ فورم موجود ہیں۔ پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم بھی چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کو مضبوط بنایا جائے، حلقے کھلوانے ہیں تو وزیراعظم جوڈیشل کمیشن پر بھی اتفاق کررہے ہیں، فضل الرحمن بغیر اسمبلی میں آئے اپوزیشن لیڈر بن گئے یہ ان کی بڑی کامیابی ہے۔ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما رمیش کمار نے کہا کہ عمران خان ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں لیکن انہیں فالو کرتے نہیں دیکھا، مدینہ کی ریاست میں دشمنوں کو معاف کیا گیا اور محبت کی زبان استعمال کی گئی،کرتارپور راہداری کھول کر لوگوں کے دل جیتے ہیں،پاسپورٹ کی چھوٹ نہ دینا جائز مطالبہ ہے۔ جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما رنجیت سنگھ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کرکے سکھوں یا کرتارپور راہداری پر موقف واضح کرنے کیلئے کہوں گا، پاکستان اور دنیا بھر سے سکھ کمیونٹی نے اس پر خفگی کا اظہار کیا ہے۔ ن لیگ کے رہنما کھیل داس کوہستانی نے کہا کہ کرتارپور راہدری کھولنا اچھا قدم ہے لیکن ٹائمنگ ٹھیک نہیں بھارت کے سامنے کشمیریوں کا کیس رکھنا چاہئے تھا۔ https://urdu.geo.tv/latest/207882-