پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف عدالتی اجازت نامہ ملنے کے بعد علاج کی غرض سے بیرون ملک روانہ ہوگئے ہیں تاہم تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے بعض وفاقی وزراء نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وفاقی وزیر برائے امورِ جہاز رانی علی زیدی نے ٹوئٹر پر نواز شریف کی لندن روانگی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ شدید بیمار مریض کو براستہ دوحہ لندن لے جانے کی کیا منطق ہے جب کہ لاہور سے دوحہ کا سفر 4گھنٹے میں طے ہوتاہے اور دوحہ تا لندن پہنچنے میں 7 گھنٹے 40 منٹ لگتے ہیں جب کہ لاہور سے لندن کا براہ راست سفر صرف 7 گھنٹے میں طے ہوجاتاہے۔ وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے بھی ٹوئٹر پر نواز شریف پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے بعد ایک بار پھر نواز شریف ملک سے روانہ ہوگئے ۔ وہ سُوٹ پہنے ہشاش بشاش اپنے پاؤں پر جہاز کے اندر گئے اور دُعاؤں کے بجائے ان پر پھُول برسائے گئے۔ فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ ‘نواز شریف ایک بار پھر پاکستانی نظام کو انگوٹھا دکھا کر چلتے بنے’- دوسری جانب وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھی ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ ’مجھے کیوں نکالا‘ سے ’خدا کیلئے مجھے نکالو‘کا سفراب اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے، ایسی لیڈرشپ جب ووٹ کیلئے عزت مانگتی ہے تو دراصل جمہوری نظام کا مذاق بنتا ہے۔ بعد ازاں اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا اس طرح جانا معاشرے کی ناکامی کا تاثر گہرا ہوا ہے، ہم نواز شریف کی صحت کے لیے دعا گو ہیں مگر جس طرح بھیجا گیا وہ طریقہ کار غلط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ نواز شریف کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانا چاہیے، وہ سارے قیدی جو جیلوں میں ہیں کیا ان کا حق نہیں کہ ایک حلف نامہ دیں اور چلے جائیں۔ واضح رہے کہ 16 نومبر کو لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دیتے ہوئے انہیں اور شہباز شریف کو 4 ہفتوں میں وطن واپسی کے لیے حلف نامے جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔ اس سے قبل سروسز اسپتال لاہور میں نواز شریف کے علاج کے دوران وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت اور پارٹی کے ترجمانوں کو نواز شریف کے خلاف بیان دینے سے روکتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے متعلق عدالت جو فیصلہ کرے گی اسے تسلیم کریں گے۔ گذشتہ دنوں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی بعض وفاقی وزراء کی جانب سے نوازشریف کو باہر جانے کی اجازت دینے کی مخالفت کی گئی تھی۔ جن وزراء نے نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دینے کی مخالفت کی ان میں فواد چوہدری، علی امین گنڈا پور ، فیصل واوڈا، شیریں مزاری اور علی زیدی کے نام سامنے آئے تھے۔ ذرائع کے مطابق آج ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی کابینہ نے سابق وزیراعظم نوازشریف سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ کابینہ ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا اور پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ عدالتوں کے فیصلے کو من و عن قبول کریں گے۔ https://urdu.geo.tv/latest/208577-