اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی نے پی ٹی آئی فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر سننے کا مطالبہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ کیس سے متعلق الیکشن کمیشن کے 10 اکتوبر کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔ پی ٹی آئی کے ایسوسی ایٹ وکیل نے عدالت میں کہا کہ سینئر وکیل سپریم کورٹ میں مصروف ہیں لہذا کیس تھوڑی دیر کے لیے ملتوی کیا جائے۔ محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ اتنا انتظار تو نہیں کیا جا سکتا، جس پر شاہ خاور ایڈوکیٹ کے ایسوسی ایٹ نے کہا کہ آئندہ کی کوئی مختصر تاریخ دے دیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت دسمبر کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔ رہبر کمیٹی کے اراکین نے الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج بھی کیا، اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ رہبر کمیٹی کی میڈیا سے گفتگو الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی کا کہنا تھا کہ پانچ سال ہو گئے تحریک انصاف کے خلاف تحقیقات مکمل نہیں ہوئیں۔ اکرم درانی نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو رہبر کمیٹی کی طرف سے یادداشت پیش کریں گے جس میں ان سے پی ٹی آئی فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ پر کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں تاخیر ملک قوم کے لیے نقصان دہ ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ دوسروں کو چور کہنے والوں نے عوام کے چندے کے ساتھ کھلواڑ کیا، پی ٹی آئی بےقصور ہے تو وہ کیوں درخواست دے رہی ہے کہ مقدمے کی کارروائی خفیہ رکھی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلے مہینے چیف الیکشن کمشنر ریٹائر ہو رہے ہیں، پی ٹی آئی کوشش کر رہی ہےکہ الیکشن کمیشن کی تشکیل ختم ہو جائے تاکہ مقدمے کی کارروائی غیر مؤثر ہو جائے۔ احسن اقبال نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس،کرپشن کی تاریخ کا میگا اسکینڈل ہے لیکن پانچ سال سے عمران نیازی اور ان کے ساتھی تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی وہ سیاسی جماعت ہے جس نے الیکشن کمیشن کے سامنے بے نامی اکاؤنٹ نہیں رکھے، پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی مدت کی معیاد ختم ہو جائے۔ ان کا کہنا تھا الیکشن کمیشن کے دو ممبران پر بھی اتفاق نہیں کیا جا رہا، اس طرح کمیشن میں صرف تین ممبران رہ جائیں گے۔ رہنما ن لیگ نے کہا کہ امریکا، یورپ، بھارت، مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی رہنماؤں کے اکاؤنٹس میں پیسے آتے تھے۔ احسن اقبال کا کہنا تھا پی ٹی آئی رہنما اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں عطیات لیتے رہے، عمران نیازی اور ان کے ساتھی اس اسکینڈل میں ملوث ہیں۔ رہنما پیپلز پارٹی نیئر بخاری کا کہنا تھا پانچ سال سے مقدمہ زیر التوا ہے، پی ٹی آئی ہر موقع پر نئی درخواست دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف میں تاخیر انصاف کا قتل ہے، پی ٹی آئی کے خلاف تحقیقات جلد از جلد کی جائے کیونکہ پوری قوم کا مطالبہ ہے کہ تحریک انصاف تلاشی دے۔ ان کا کہنا تھا امید ہے چیف الیکشن کمشنر اپنی مدت ختم ہونے سے پہلے فیصلہ کریں گے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین کا کہنا تھا وزیراعظم جہاں جاتے ہیں کہتے ہیں ہمارے ملک میں بہت کرپشن ہو رہی ہے، فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کے بعد پتا چلے گا کہ کرپٹ کون ہے۔ میاں افتخار نے کہا کہ وزیراعظم کہتے ہیں این آر او نہیں دوں گا لیکن خود این آر او کے پیچھے چھپ کر بیٹھے ہیں، اس کیس کا فیصلہ آ جائے تو نا عمران خان رہے گا اور نا ہی ان کی کابینہ باقی بچے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے سیلکٹڈ وزیراعظم فوری مستعفیٰ ہوں۔ https://urdu.geo.tv/latest/208617-