پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف سوچی سمجھی سازش سے الیکشن کمیشن کو آزادانہ کام کرنے سے روکنے کی کوشش کررہی ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور ملکی قوانین پابند کرتے ہیں تمام ٹرانزیکشنز قانون کے مطابق کریں، پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)نے جماعت کے نام پر عطیات لیے لیکن کہیں ظاہر نہیں کیے اور خُرد بُردکردیے، پی ٹی آئی نے 23 اکاؤنٹس الیکشن کمیشن کے سامنے ڈکلیئر نہیں کیے۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی فنڈنگ کے نام پر کرپشن میں ملوث نظر آرہی ہے ، خان صاحب سب ٹھیک ہے تو الیکشن کمیشن میں معاملہ خفیہ رکھنے کی درخواست کیوں کرتے ہیں، ہم مطالبہ کر رہے ہیں 5سال سے زیر غور معاملے پر فیصلہ کیاجائے ، کوشش کی گئی کہ الیکشن کمیشن کو آزادانہ فیصلہ کرنے سے روکا جائے۔ ن لیگ کے رہنما کا کہنا تھا کہ اب انہیں انتظار ہے چیف الیکشن کمیشن 6 دسمبر کو مدت پوری کرلیں، جب آپ مقدمات میں رازداری رکھنا چاہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ 'کچھ تو ہےجس کی پردہ داری ہے'، قوم جاننا چاہتی ہے ،یورپ ،امریکا اور مشرق وسطیٰ میں کس کس نے فنڈنگ کی۔ معیشت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ انہوں نے جھوٹ بول بول کر معیشت کو تباہی کے دہانے لاکھڑا کیا، لاکھوں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں، آپ سوشل میڈیا پر خوشنما سلائیڈ تو دکھا سکتے ہیں لیکن معیشت کی بھیانک حقیقت چھپا نہیں سکتے۔ حکومت نے بیان دیا کہ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ آئی ہے، اصل میں ٹریژری بلز میں باہر سے ادھار پیسہ آیا ہے۔ ' وزیراعظم کو نوبیل انعام کے لیے تجویز کرتاہوں' احسن اقبال کا کہنا تھا کہ میں وزیراعظم کو نوبیل انعام کے لیے تجویز کرتاہوں، یا تو آپ معیشت کے بہت بڑے آئن اسٹائن ہیں یا ہم معیشت نہیں سمجھتے، وزیراعظم نے انکشاف کیا ہے کہ مہنگائی بڑھتی ہے تو غربت بڑھتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حقیقت میں آپ کی حکومت کو معیشت کی الف ب نہیں پتہ، خان صاحب آپ کی کبھی حفیظ شیخ سے ملاقات ہوئی تھی؟ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حفیظ شیخ کا نام دیا اورا نہیں مشیر خزانہ لگادیا گیا۔ غیر ملکی فنڈنگ کیس کیا ہے ؟ واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی درخواست پر چیف الیکشن کمشنر نے پی ٹی آئی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کی درخواست منظور کرلی ہے۔ ذرائع کا کہناہےکہ الیکشن کمیشن نے ہدایت کی ہےکہ اسکروٹنی کمیٹی فارن فنڈنگ کیس کو جلد نمٹائے۔ اس حوالے سے جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے سابق چیف الیکشن کمشنر کنور دلشاد کا کہنا تھا الیکشن ایکٹ کے مطابق تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں اگر الزام درست ثابت ہو جائے تو الیکشن کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پوری جماعت کو کالعدم قرار دے سکتا ہے۔ خیال رہے کہ تحریک انصاف کے باغی رکن اکبر ایس بابر نے تحریک انصاف میں 23 خفیہ اکاؤنٹس کی موجودگی کا الزام عائد کیا ہے اور اس حوالے سے الیکشن کمیشن میں ایک درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ پارٹی فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کا محل بہہ جائے گا۔ الیکشن کمیشن نے 10 اکتوبر کو اس کیس کے خلاف تحریک انصاف کی جانب سے دائر درخواستوں کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا تھا جس کے خلاف پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی تھی اور ہائی کورٹ نے کیس کو دسمبر کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دیا ہے۔ https://urdu.geo.tv/latest/208692-