الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 2023ء کے عام انتخابات اور بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے نیا اسٹریٹجک پلان جاری کر دیا۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا نے الیکشن کمیشن کے تیسرے اسٹریٹجک پلان 2019/2023 کا اجراء کر دیا۔ نئے اسٹریٹجک پلان میں الیکشن ایکٹ اور مقامی حکومت ایکٹ کا ازسرنو جائزہ لےکر دسمبر 2020ء تک ترامیم تجویز کی جائیں گی۔ پلان کے مطابق الیکشن کمیشن اگست 2020ء تک سوشل میڈیا کا محکمہ قائم کر دے گا۔ صنفی فرق 6 فیصد تک کم کیا جائے گا۔ ٩٠ فیصد تک اہل شہریوں کو بطور ووٹر رجسٹر کیا جائے گا۔ وفات پانے والے افراد کو انتخابی فہرستوں سے نکالنے کا طریقہ کار بنایاجائے گا۔ پلان کے مطابق کم ٹرن آؤٹ اور زیادہ مسترد ووٹوں کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے جون 2020ء تک ریسرچ کی جائے گی۔ ووٹرز کے لیے آگاہی کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے گا۔ ووٹرز کی سیکیورٹی کے انتظامات مزید مؤثر بنائے جائیں گے۔ پلان میں مزیدکہا گیا ہے کہ جغرافیائی انفارمشین سسٹم، رزلٹ مینجمنٹ سسٹم اور کمپیوٹرائزڈ انتخابی فہرستیں دسمبر 2022 تک اپ گریڈ کر لی جائیں گی۔ موبائل ایپلیکیشنز، پولنگ اسٹیشن سے نتائج کی الیکٹرانک ترسیل کا نظام بھی دسمبر 2022 تک اپ گریڈ کر لیا جائے گا۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین، بائیومیٹرک تصدیق کی مشین اور سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ سے متعلق انتخابی ٹیکنالوجی کے مزید پائلٹ ٹیسٹ کیے جائیں گے۔ جون 2021 تک الیکٹرانک شکایت کا نظام بھی تیار کر نے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ریٹرننگ آفیسر، کمیشن اور ٹریبونل کے سامنے کیس اور تنازعات کو ٹریک کرنے کے لیے آن لائن منیجمنٹ سسٹم بھی قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ https://urdu.geo.tv/latest/209105-