کوئٹہ: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آزادی مارچ سے ہماری حلیف جماعتوں کو فائدہ ہوا تو اچھی بات ہے۔ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک کے بحران میں اضافہ ہورہا ہے اور ملک تنزلی کی طرف جارہا ہے، سب سے زیادہ تشویشناک اور خطرناک صورتحال ملکی معیشت کی ہے، اداروں کی پیداواری صلاحیت جواب دے چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری اور تاجر طبقہ پریشان ہے، بیرروزگار افراد کی تعداد لاکھوں میں پہنچ چکی ہے، لوگوں کی قوت خرید جواب دے چکی ہے۔ سربراہ جے یو آئی نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ ملک میں نئے الیکشن کرائے جائیں، اگر ہمارے مطالبے سے انحراف کیاگیا تو مزید سخت فیصلے کیے جاسکتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نااہل ہے، ہمیں ایک مستحکم سیاسی نظام کی طرف جانا ہے اور اقتدار پر قابض مافیا سے جان چھڑانی ہے، یہ دوسروں کو مافیا کہہ رہے ہیں لیکن یہ خود مافیا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی نظام مستحکم نہیں ہے، ملک میں ایک سیاسی قیادت اور مستحکم نظام کی ضرورت ہے، آزادی مارچ نے پوری قوم کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا، ملک کے موجودہ نظام کو مسترد کردیاگیاہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آزادی مارچ ایک تاریخی ایونٹ تھا جس نے اپنے اثرات مرتب کیے ہیں، اگر اِس سے ہماری حلیف جماعتوں کو فائدہ ہوا تو اچھی بات ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت اس قابل نہیں کہ اس سے میثاق جمہوریت کیاجائے، بہتر لوگ میثاق جمہوریت کو بہتر بناسکتے ہیں لیکن موجودہ حکومت میں کوئی اہلیت نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خارجہ پالیسی میں ہم تنہا ہوچکے ہیں، دوست ساتھ نہیں دے رہے، ملک میں بہتری نہیں آسکتی اور نہ ہی امید ہے لہٰذا ملک کو بہتری کی امید پر مزید تباہ نہ کیا جائے۔ خیال رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے حکومت کے خلاف آزادی مارچ 27 اکتوبر کو شروع کیا تھا اور مارچ کے شرکاء نے 31 اکتوبر سے اسلام آباد میں دھرنا شروع کیا تھا 13 نومبر تک جاری رہا تھا۔ https://urdu.geo.tv/latest/209366-