وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے اسلامی نظریاتی کونسل جیسے ادارے پر کروڑوں روپے خرچ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری اکثر اپنے متنازع بیانات کے باعث تنقید کی زد میں رہتے ہیں۔ اس سے قبل بھی فواد چوہدری رویت ہلال کمیٹی اور اسلامی نظریاتی کونسل کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں اور وفاقی وزیر نے ایک بار پھر اپنی توپوں کا رخ اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب کر لیا ہے۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے پریس کانفرنس کے دوران نیب آرڈیننس کی کچھ دفعات کو غیر آئینی اور غیر شرعی قرار دیا تھا۔ قبلہ ایاز کا کہنا تھا بے گناہ کو ملزم ثابت کرنا، وعدہ معاف گواہ بننا اور پلی بارگین کی دفعات غیر اسلامی ہیں۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج تک مذہبی طبقات کی سوچ کو نظریاتی کونسل سے کوئی رہنمائی نہیں ملی۔ وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ ایسے ادارے پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کا جواز میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل نو کی ضرورت ہے، جدید تقاضوں سے ہم آہنگ، انتہائی جید لوگ اس ادارے کو سنبھالیں۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کا فواد چودھری کے بیان پر ردعمل چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز نے فواد چودھری کے ٹویٹ پرردعمل میں کہا ہے کہ فواد چوہدری ہماری سفارشات پرشرعی دلیل دیں توہم غورکے لیے تیار ہیں۔ قبلہ ایاز کا کہنا ہے کہ 20 ممبران پرمشتمل اسلامی نظریاتی کونسل آئینی ادارہ ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان وچیئرمین کی تقرری وزیراعظم کی سفارش سے صدرمملکت کرتے ہیں، ہمارے کام کی تائید و تحسین ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے نیب قوانین کا شرعی لحاظ سے جائزہ لیا ہے، نیب قوانین کے بارے میں حکومت خود بھی عدم اطمینان کا اظہار کرچکی ہے جب کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے بھی نیب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری کے ساتھ بہت اچھے مراسم ہیں، معلوم نہیں فواد چوہدری کے ذہن میں کیوں تکدر پیدا ہوا اور اس قدرسخت ٹویٹ کی، فواد چوہدری کو ہمارے ساتھ رابطہ کرنا چاہیے تھا،وہ ہمارے ساتھ رابطہ کرتے تو ہم ان کو مطمئن کرتے۔ https://urdu.geo.tv/latest/211851-