اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز کی جانب سے نیب آرڈیننس کی بعض شقوں کو غیر شرعی قرار دیے جانے کے بعد نیا تنازع کھڑا ہوگیا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز اور وفاقی وزیر سائنس ایںڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری آمنے سامنے آگئے اور ایک دوسرے کیخلاف بیانات داغ دیے۔ فواد چوہدری نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسے ادارے پر کروڑوں روپے خرچ کرنا سمجھ سے باہر ہے جس سے مذہبی طبقات کی سوچ کو کوئِی مدد نہ ملی ہو، ہونا یہ چاہیے کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ انتہائِی جید لوگ اس ادارے کو سنبھالیں۔ فواد چوہدری کے اس بیان پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ کونسل میں اگر نہیں ہیں تو صرف حریم شاہ نہیں ہیں، کونسل کے فیصلوں پرفواد چوہدری کا بیان ایک آئینی ادارے کی توہین ہے۔ فواد چوہدری پر برستے ہوئے حافظ حمداللہ نے کہا کہ ایک وفاقی وزیراسلامی نظریاتی کونسل جیسے ادارے کی توہین کا مرتکب ہورہا ہے، اسلامی نظریاتی کونسل کو ناکارہ کہنا کیا یہ ہے ریاست مدینہ کا تقاضہ؟ انہوں نے کہا کہ کونسل میں مذہبی اسکالر، آئینی و قانونی ماہرین بطور رکن شامل ہیں، اگر نہیں ہیں تو صرف حریم شاہ نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ناقص کارکردگی اور بد زبانی کے باعث فواد چوہدری سے وزارت اطلاعات لے لی گئی تھی، فواد چوہدری دوسروں پر تنقید کی بجائے اپنی کارکردگی دکھائیں یا مستعفی ہوجائیں۔ اس سے قبل نیب آرڈیننس کی کچھ شقوں پر اسلامی نظریاتی کونسل نے اعتراض اٹھائے تو فواد چوہدری نے کونسل کے وجود پر ہی سوال کھڑے کردیے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی تین شقوں کو غیر شرعی غیر اسلامی اور آئین سے متصادم قرار دے دیا۔ کونسل چئیرمین قبلہ ایاز نے کہا کہ نیب آرڈیننس میں بے اپنی گناہی ثابت کرنا ملزم کی ذمے داری ہے جبکہ اسلام میں یہ ذمے داری الزام لگانے والے پرعائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے الزام کے لیے شواہد پیش کرے۔ اس کے علاوہ بدعنوانی کا اعتراف کرنے والے کو پلی بارگین کرکے چھوڑنا بھی غیر اسلامی ہے، جرم کرنے والے کو سزا ملنی چاہیے نہ کہ اسے انعام دیا جائے۔ قبلہ ایاز کے بیان پر وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کونسل کی کارکردگی پر سوال اٹھادیے اور کہا کہ ایسے ادارے پر کروڑوں روپے خرچ کرنا سمجھ سے باہر ہے جس سے مذہبی طبقات کی سوچ کو کوئِی مدد نہ ملی ہو، ہونا یہ چاہیے کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ انتہائِی جید لوگ اس ادارے کو سنبھالیں۔ فواد چوہدری کے رد عمل پر ایک بار پھر قبلہ ایاز سامنے آئے اور بولے کہ نیب قوانین کے بارے میں تو حکومت، سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ بھی عدم اطمینان کا اظہار کرچکی ہیں، معلوم نہیں فواد چوہدری کے ذہن میں کیوں اختلاف پیدا ہوا، وہ کوئی شرعی دلیل پیش کریں تو غور کے لیے تیار ہیں۔ https://urdu.geo.tv/latest/211868-