کراچی: سینئر صحافی مظہر عباس کا کہنا ہے کہ ایم کیوایم نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں سیکٹر ز اور یونٹس کھولنے کی اجازت دی جائے لیکن ایسا نہیں ہوسکا جس پر ایم کیو ایم نے وفاقی کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ تفصیلات کے مطابق خالد مقبول صدیقی کے کابینہ سے علیحدہ ہونے کے اعلان پر سینئر صحافی مظہر عباس نے جیو پر اپنے تجزیہ میں کہا کہ خالد مقبول کے استعفے کے اعلان کی وجہ ایم کیوایم اور وفاقی حکومت کے درمیان اختلافات کا نتیجہ ہے، ایم کیوایم نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں سیکٹر ز اور یونٹس کھولنے کی اجازت دی جائے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت نے اس معاملے پر ایم کیوایم سے معذرت کرلی جب کہ وفاقی حکومت نے متحدہ سے کہا کہ ان پر دوسرے ذرائع سے دباؤ ہے اسی لئے انہیں سیکٹرز اور یونٹس کھولنے کی اجازت نہیں مل سکی، یہی وجہ ہے کہ بہادرآباد کا دفتر ہی ایم کیوایم کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا۔ مظہر عباس کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم کا دوسرا مطالبہ کراچی کیلئے فنڈز کی فراہمی کا تھا جو کہ پورا نہ ہوسکا، ماضی کی ایم کیوایم زیادہ مضبوط تھی لیکن آج بھی وہ اہم کردارادا کرسکتے ہیں۔ سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ خالد مقبول نے پریس کانفرنس میں حکومت سے مکمل علیحدگی کا اعلان نہیں کیا یہ عارضی علیحدگی ہوسکتی ہے، وہ کہہ چکے ہیں کہ حکومت گرانے کا حصہ نہیں بنیں گے اور حکومت کی حمایت بھی جاری رہے گی، ایم کیوایم کاپرانا طریقہ ہے کہ پہلے وہ دباؤ ڈالتے ہیں اور پھر اپنا مطالبہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایم کیوایم اپوزیشن بینچز پر بیٹھ گئی تو حکومت کو بڑے مسئلے کا سامنا ہوگا، ایم کیوایم نے پیپلزپارٹی کا آپشن بھی کھلا رکھا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ پی پی پی سے مذاکرات سے قبل سندھ لوکل گورنمنٹ بل 2013 میں ترمیم لائیں جس کے تحت میئراور ڈپٹی میئر کے اختیارات ختم کردیئے گئے تھے۔ مظہر عباس کا کہنا تھا کہ اگر پیپلزپارٹی وفاقی حکومت کو گرانا چاہتی ہے تو وہ لوکل گورنمنٹ بل میں ترمیم کے ذریعے ایم کیوایم کو اپنے ساتھ ملاکرحکومت گراسکتے ہیں۔ دوسری جانب سینئر تجزیہ کارسلیم صافی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیوایم اور پی ٹی آئی کا فطری اتحاد نہیں ہے، مجبوری میں دونوں نے اتحاد قائم کیا ہے کیونکہ ماضی میں دونوں کی سیاست ایک دوسرے کے مخالف رہی ہے جب کہ متحدہ کا خیال ہے کہ انتخابات 2018 میں پی ٹی آئی نے ان کا حق چھینا ہے۔ https://urdu.geo.tv/latest/212074-