لاہور: مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہ نما اور رکن قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف نے دعویٰ کیا ہے کہ آرمی سروسز ایکٹ میں ترمیم کی حمایت کا حتمی فیصلہ کرتے وقت نوازشریف سے مشاورت نہیں کی گئی۔ جیونیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں بات چیت کے دوران جاوید لطیف نے کہا کہ یہ بات درست نہیں کہ سروسز ایکٹ میں ترمیم کی حمایت کا فیصلہ پارٹی رہنماؤں کے لندن پہنچنے سے پہلے ہی ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آرمی سروسز ایکٹ میں ترمیم کی حمایت کا حتمی فیصلہ کرتے وقت نوازشریف سے مشاورت نہیں کی گئی۔ ایک سوال کے جواب میں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ پارٹی میں چوہدری نثار کی کچھ باقیات موجود ہیں۔ واضح رہےکہ مسلم لیگ (ن) نے آرمی ایکٹ کی غیر مشروط حمایت کی تھی اور اس حوالے سے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پارٹی قائد میاں نوازشریف کی ہدایت پر پارٹی نے بل کی حمایت کی تاہم مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بل کی حمایت کرنے پر بعض رہنماؤں نے تحفظات کا بھی اظہار کیا تھا۔ https://urdu.geo.tv/latest/212101-