وزیراعظم عمران خان کو گندم بحران پر تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی تاہم وزیراعظم نے چند اعتراضات لگاکر رپورٹ واپس کردی۔ وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ گندم بحران پر تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گندم بحران پر تحقیقاتی رپورٹ مزید سوالات کے ساتھ واپس کر دی گئی ہے اور جامع تحقیقاتی رپورٹ 3 ہفتوں بعد دوبارہ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ گندم اور چینی کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ خیال رہے کہ گزشتہ دنوں ملک بھر میں گندم کے بحران کے باعث آٹے کی قیمت 70 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بحران پر قابو پانے کے لیے 3 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی ہے تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ درآمد شدہ گندم آتے آتے مقامی سطح پر گندم کی فصل تیار ہوجائے گی اور پھر گندم کی زیادتی کی وجہ سے ایک نیا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی آٹے کے بحران اور قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے گندم ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم نے بحران کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی اور وزراء کو بحران کی وجوہات جاننے کا ٹاسک سونپا تھا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کو ملک میں جاری آٹا بحران سے متعلق رپورٹ بھجوادی گئی جس کے مطابق آٹا بحران باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت پیدا کیا گیا جس میں افسران اور بعض سیاسی شخصیات بھی ملوث ہیں۔ https://urdu.geo.tv/latest/214127-