اسلام آباد؛ قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب کی تقریر کے دوران اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی اور حکومتی ارکان آمنے سامنے آگئے۔ اجلاس میں عمر ایوب نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ایک صدر ہوتے تھے جو مسٹرٹین پرسنٹ مشہور تھے جس پر پیپلز پارٹی کے ارکان طیش میں آگئے۔ عمر ایوب کو روکنے کے لیے پیپلزپارٹی کے ارکان ان کی نشست پرآگئے، پہلے پی پی رہنما نویدقمر اپنی نشست سے اٹھ کر آئے جس پر آغا رفیع اللہ انہیں زبردستی بٹھانےآگئے جب کہ وفاقی وزراء بھی عمر ایوب کی مدد کے لیے آگئے۔ بعدازاں وزراء آغا رفیع کو روکنے کےلیے آگے بڑھے تو وہ گتھم گتھا ہوگئے، اس دوران اپوزیشن جماعت کے ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اچھال دیں۔ عمر ایوب نے کہا کہ میں نے تو کسی کا نام نہیں لیا جس پر پیپلز پارٹی اراکین نے ایوب ڈکٹیٹر مردہ باد کے نعرے بھی لگانے لگے۔ ہنگامہ آرائی کے باعث ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نےاجلاس کل صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا۔ https://urdu.geo.tv/latest/214177-