چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی زیر صدارت ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایک اور ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ خیال رہے کہ شاہدخاقان عباسی کےخلاف ایل این جی کیس کی سماعت احتساب عدالت میں جاری ہے ، انہیں 18 جولائی 2019 کوگرفتارکیاگیا تھا تاہم ابھی تک ان پر فرد جرم عائد کی گئی ہے اور نہ ہی ریفرنس کی نقول فراہم کی گئی ہیں۔ ایل این جی اسکینڈل میں گرفتار سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف اب ایک نیا ریفرنس دائر ہوگا۔ نیب اعلامیے کےمطابق شاہدخاقان عباسی پر بطور وزیرپٹرولیم اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کا الزام ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر اور ڈپٹی منیجمنٹ ڈائریکٹرکا تقررکیا جس کے باعث قومی خزانے کو 138 اعشاریہ 96 ملین (تقریباً 13 کروڑ 90 لاکھ) روپے کانقصان ہوا۔ نیب اجلاس میں7 نئی انکوائریوں کا حکم نیب اجلاس میں7 نئی انکوائریوں کا حکم بھی دیا گیا ہے جس میں مسلم لیگ ن کے سابق وزیر برجیس طاہر کے خلاف بھی انکوائری شامل ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ سابق رکن سندھ ریونیو بورڈ غلام علی شاہ، عبدالسبحان میمن اور دیگر کے خلاف بھی بد عنوانی کا ریفرنس داخل کیاجائےگا۔ ان ملزمان پر سرکاری زمین کو غیر قانونی طور پر الاٹ کر کے 12 کروڑ روپے تک کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ سابق وزیر سلیم گورایا، رکن قومی اسمبلی باسط احمد سلطان اور سردار نصر اللہ خان دریشک کے خلاف بھی مختلف انکوائریز کی منظوری دی گئی۔ https://urdu.geo.tv/latest/214187-