پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سنا ہے حکومت نے فضل الرحمان اور خواجہ آصف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے، ایسے مقدمات کیے گئے تو یہ حکومت کا چھوٹا پن ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں کو انٹرویو میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر غداری کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف بھی گزشتہ روز کہہ چکے ہیں کہ حکومتی کی جانب سے ان کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کی تیاری ہورہی ہے۔ اسی معاملے پر قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’سنا ہے حکومت نے فضل الرحمان اور خواجہ آصف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے، سیاسی ورکرز اور سیاسی قیادت کے خلاف غداری کے مقدمے کس طرح بنا رہے ہیں؟ ایسے مقدمات کیے گئے تو یہ حکومت کا چھوٹا پن ہوگا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیا حکومت سیاسی قیادت کو غداری کی مد میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنائے گی؟ کس بہانے اِن رہنماؤں کے خلاف غداری کے مقدمے بنائے جارہے ہیں؟ وزیراعظم عمران خان خود کیا کرتے رہے ہیں، اب کیسے بیانات دے رہے ہیں؟ خواجہ آصف علاوہ ازیں لیگی رہنما خواجہ آصف کا قومی اسمبلی سے خطاب میں کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان خود کیا کرتے رہے ہیں، اب کیسے بیانات دے رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے 126 دن کا دھرنا دیا، مولانا فضل الرحمان نے 10 یا 12 دن کا دھرنا دیا اور ان کا دھرنا پرامن بھی تھا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان اِس ریاست کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں، یہ حکومت آوازیں بند کرے گی تو پتا نہیں کیا کیا ہوگا، احسان اللہ احسان اور راؤ انوار کھلے پھر رہے ہیں لیکن سیاسی قیادت کو قید کیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ سال 27 اکتوبر کو جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کراچی سے آزادی مارچ شروع کیا تھا اور 31 اکتوبر کو اسلام آباد کے ایچ نائن گراؤنڈ میں 14 روز تک دھرنا دیا تھا۔ https://urdu.geo.tv/latest/214314-