وزیر مملکت برائے داخلہ امور علی محمد خان کا کہنا ہے کہ حکومت کسی کیخلاف کیس بنانے کا ارادہ نہیں رکھتی، فضل الرحمان کو جواب دینا ہوگا کہ انہیں کیا یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ قومی اسمبلی میں وضاحت کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ دھرنا دینا ہر کسی کا حق ہے، مولانا فضل الرحمان ایک سال کے لیے دھرنا دینا چاہیں تو دیں۔ وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ آج پوری پارلیمنٹ اور قوم مبارک باد کی مستحق ہے، آج ترک صدر نے جس طرح گفتگو کی ہے وہ ایک لائحہ عمل ہے، حکومت کسی کے خلاف کیس بنانے کا ارادہ نہیں رکھتی، وزیر داخلہ ایوان میں بتادیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دھرنا دینا ہر کسی کا حق ہے، مقدمے کی بات اس سوال پر ہوئی کہ کس نے غیر آئینی طور پر مولانا فضل الرحمان کویقین دہانی کرائی۔ خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’مولانا نے کہا وہ کسی کے اشارے پر حکومت گرانے آئے تھے، یہ غداری ہے ان کے بیان پر آرٹیکل 6 کا مقدمہ ہونا چاہیے معلوم ہونا چاہیئے کہ مولانا فضل الرحمان کو کس نے یقین دہانی کرائی ہے‘۔ خیال رہے کہ اکتوبر اور نومبر 2019 میں جمعیت علمائے اسلام نے حکومت کے خلاف آزادی مارچ شروع کیا تھا تاہم چند روز دھرنا دینے کے بعد مظاہرہ ختم کردیا گیا تھا۔ اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے متعدد ٹی وی انٹرویوز میں کہا کہ وہ اسلام آباد سے خالی ہاتھ واپس نہیں آئے انہیں یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں۔ https://urdu.geo.tv/latest/214316-