پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعدرفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق جیل سے رہا ہوگئے۔ سپریم کورٹ نے 30، 30 لاکھ روپے کے دو مچلکوں کے عوض ضمانت دونوں کی منظورکی تھی۔ خواجہ برادران پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل کیس میں ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ سے حراست میں تھے۔ جیل سے رہائی کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی رکن پنجاب اسمبلی خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو ختم ہونا چاہیے، نیب اور پاکستان اکٹھے نہیں چل سکتے، آمرمطلق کا بنایا ہوا قانون بدنیتی کی بنیاد پر بنایا گیا تھا۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آج میرشکیل الرحمن کےساتھ کیا ہو رہا ہے، میر شکیل الرحمان کا کیا جرم ہے؟ عمران خان صاحب اپنے مخالفوں کوبرداشت کرنا سیکھیں، اس رویےسےملک نہیں چل سکتا۔ 14 ماہ جیل میں گزارنے کے بعد رہائی کے موقعے پر اپنے گھر میں پریس کانفرنس سے خطاب میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ بہت سے سرکاری افسران اس لیے جیل میں ہیں کہ وہ وعدہ معاف گواہ نہیں بنے۔ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن ایک اعتدال پسند جماعت ہے، ہم نےثبوت بھی دیا، کوئی سیاسی قیدی ہمارے دور میں نہیں تھا اور پیپلزپارٹی کےدورمیں بھی کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا۔ https://urdu.geo.tv/latest/216565-