کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے حکومتی پابندی کے باوجود نماز جمعہ کے بڑے اجتماعات منعقد کرنے والوں پر قائم مقدمات واپس لینے کی ہدایت کردی۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے علماء کرام کی ملاقات ہوئی جس میں کورونا وائرس سے نمٹنے میں علمائے کرام کے کردار کے حوالے سے معاملات زیر غور آئے۔ ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق ملاقات میں صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ، مرتضیٰ وہاب، چیف سیکرٹری سندھ، انسپکٹر سندھ پولیس، مفتی تقی عثمانی، مفتی عمران عثمانی، مفتی زبیر عثمانی ، ڈاکٹر عدیل، مفتی منیب الرحمان، علامہ شہنشاہ حسین رضوی سمیت دیگر علماء شریک ہوئے۔ ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے علمائے کرام کو سندھ حکومت کی جانب سے لیے جانے والے فیصلوں پر ایک بار پھر اعتماد میں لیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ میں 508 کورونا وائرس سے متاثرہ لوگ ہیں، کراچی شہر میں 171 افراد مقامی طور پر وائرس سے متاثر ہوئے ہیں، دیگر مریض بیرون ملک سے آئے جن کا ہمیں پتہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 27 فروری کو جب پہلا کیس آیا تو اقدامات شروع کیے، ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ اس کا پھیلاؤ بہت خطرناک ہے، روکا جائے ، دیکھتے دیکھتے پوری دنیا اس مرض کی زد میں آگئی ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نے سب سے پہلے لاک ڈاؤن کیا اور لوگوں کے میل جول کو روکا، ہم نے سب سے پہلے اسکول، ریسٹورنٹ اور تفریحی مقامات بند کیے، آخرکار ہم صوبے میں ایک مکمل لاک ڈاؤن پر آگئے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سب سے مشکل مساجد میں اجتماعات کو روکنا تھا، علماء کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہماری رہنمائی کی، حکومت نے طبی ماہرین کی مدد سے فیصلے کیے، مساجد ہم نے کھلی رکھیں ہوئی ہیں، اذانیں ہورہی ہیں، مساجد میں متعین لوگ اپنی جماعت کررہے ہیں، ہمارا مقصد عوام کو اس مرض سے بچانا ہے۔ علاوہ ازیں ترجمان وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے جمعے کو نماز کے بڑے اجتماعات پر امام اور مسجد انتظامیہ کیخلاف قائم مقدمات واپس لینےکا فیصلہ کیا ہے اور مراد علی شاہ نے آئی جی پولیس کو مقدمات واپس لینےکی ہدایت کردی ہے۔ ترجمان کے مطابق علماء نے آئندہ جمعے سے حکومت سے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ https://urdu.geo.tv/latest/217452-