وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی میز پر 18ویں ترمیم میں ترمیم کا کوئی بل موجود نہیں۔ قومی اسمبلی سے خطاب میں بابر اعوان کا کہنا تھا کہ احتساب کے حوالے سے پہلے بے نظیر بھٹو کا تین بار احتساب ہوا، جنرل مشرف کے دور میں احتساب کا قانون بنا لیکن 20 سال تک اسمبلی اور سینیٹ نے احتساب کے قانون کو ہاتھ نہیں لگایا۔ انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کیلئے حکومت تیار ہے اور اس پر بات کرنے کیلئےحکومت کے دروازے کھلے رہیں گے۔ مشیر برائے پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی میز پر 18 ویں آئینی ترمیم میں ترمیم کا کوئی بل موجود نہیں لیکن اللہ کے قوانین کے سوا آئین میں ترمیم کی گنجائش موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئین 1973 کے آنے کے ایک سال بعد ہی پہلی ترمیم ہو گئی، اس ہی دور میں آئین میں 7 ترامیم ہوئیں، پھر 1985 میں 8 ویں آئینی ترمیم ہوئی، اٹھارویں آئینی ترمیم اپریل 2010 میں پارلیمنٹ نے منظور کی، اس ہی سال دسمبر میں انیسویں آئینی ترمیم ہو گئی اور پھر مئی 2018 کو فاٹا کو ضم کرنے کے حوالے سے آئینی ترمیم ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی میں تین حکومتی آئینی ترمیمی بل ہیں جبکہ اپوزیشن کی جماعتوں کے 26 آئینی ترمیم التواء میں ہیں۔ قومی اسمبلی کے جاری اجلاس پر مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان کا کہنا تھا کہ اجلاس ختم ہورہا ہے اور قوم پارلیمنٹ کی طرف ہی دیکھ رہی ہے، امید کی خبر ہی قوم کو ضرور دینی چاہیے، جو ایوان میں تجاویز آئیں، وہ اداروں تک پہنچائیں گے۔ خیال رہے کہ گذشتہ کچھ دنوں سے 18 ویں ترمیم میں تبدیلی کے حوالے سے خبریں سامنے آرہی ہیں اور حکومتی رہنماؤں کی جانب سے ترمیم پر اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں تاہم اپوزیشن کی جانب سے آئین میں کسی بھی تبدیلی پر سخت ردعمل کا اعلان کیا گیا ہے۔ گزشتہ برس بھی حکومتی حلقوں کی جانب سے 18 ویں ترمیم پر شور اٹھا تھا جس پر اپوزیشن میں شامل جماعتوں نے سخت تنقید کی تھی۔ https://urdu.geo.tv/latest/221537-