قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ محض ایک دھوکا ہے کیونکہ کمیشن نے چینی ایکسپورٹ کرنے کے اصل ذمہ دار عمران خان کا بیان ریکارڈ ہی نہیں کیا۔ جیو نیوز کے پروگرام ' کیپیٹل ٹاک' میں گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ میں ان کے بچوں کا نام آیا ہے لیکن ان کے بچوں نے چینی ایکسپورٹ نہیں کی، شریف خاندان کی مل رحیم یار خان میں بند تھی تو ایکسپورٹ کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ شہباز شریف کا کہناتھا کہ معاملہ چینی ایکسپورٹ کا ہے یا گندم کا ہے وزیر اعظم نے اپنی کھلی ہوئی آنکھوں سے اور کھلے ہوئے کانوں سے اور پورے ہوش و حواس کے ساتھ کیا، یہ ان کی ذمہ داری ہے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایکسپورٹ کی اجازت دے دی جائے، یہ نہیں ہوسکتا کہ فیصلے وزیراعظم کریں اور ذمہ داری کسی اور پر ڈالیں۔ قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ عمران خان کا چینی کمیشن بنانا الٹا چور کا کوتوال کو ڈانٹنا ہے، ایکسپورٹ کیلئے بنیادی اصول یہ ہے کہ ملک میں وہ چیز سرپلس ہو، 2018 اور 19 کے اعداد وشمار سے ثابت ہوجائے گاکہ کوئی ایکسپورٹیبل سرپلس نہیں تھا، اس لیے ایکسپورٹ کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چینی ایکسپورٹ کے فیصلے کے بعد ڈالر کی قیمت میں 40 روپے اضافہ ہوا یہ فائدہ بھی ایکسپورٹرز نے حاصل کیا اور چینی ایکسپورٹ سے فائدہ اٹھانے والوں میں وہ لوگ ہیں جنھوں نے عمران خان کا کچن چلایا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف بطور وزیراعظم جے آئی ٹی میں پیش ہوسکتے ہیں ان کو کونسا سرخاب کا پر لگا تھا، کمیشن اتنا خوفزدہ تھا کہ وزیراعظم کو بلا نہ سکا، شاہد خاقان عباسی بھی کمیشن میں پیش ہوئے، ان کو توخود پیش ہونا چاہیے تھا۔ 'سبسڈی دی لیکن کسی ذمہ دار کا تعین نہیں کیا گیا' دوسری جانب جیو نیوز سے گفتگو میں ن لیگ کے رہنما ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے سبسڈی دی لیکن کسی ذمہ دار کا تعین نہیں کیا گیا، وفاقی حکومت میں بھی سبسڈی دینے پر کسی ذمہ دار کا تعین نہیں کیا گیا۔ ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ چینی سبسڈی انکوائری کمیشن کی سمت تبدیل کی گئی ہے،ان کو چینی سے متعلق رپورٹ میں ان ذمہ دارون کا تعین کرنا تھا جو نہیں کیا گیا۔ خیال رہے کہ حکومت چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ منظر عام پر لے آئی ہے جس کے مطابق جہانگیر ترین، مونس الٰہی، شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ، اومنی گروپ اور عمرشہریار کی چینی ملز نے پیسہ بنایا۔ فرانزک آڈٹ رپورٹ میں چینی اسیکنڈل میں ملوث افراد کےخلاف فوجداری مقدمات درج کرنے اور ریکوری کرنےکی سفارش کی گئی ہے جبکہ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ریکوری کی رقم گنےکے متاثرہ کسانوں میں تقسیم کردی جائے۔ https://urdu.geo.tv/latest/222025-