حکومت نے شوگر مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرتے ہوئے شوگر کمیشن رپورٹ کی بنیاد پر ایف بی آر، ایس ای سی پی اور ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دے دیا۔ شوگر مافیا کے خلاف کارروائی کے لیے وزیراعظم کی ہدایت پر مشیر برائے احتساب و داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر نے گورنر اسٹیٹ بینک، مسابقتی کمیشن اور 3 صوبوں کو خط لکھ دیے ، خط کے ساتھ شوگر کمیشن رپورٹ بھی ارسال کی گئی ہے اور متعلقہ محکموں کو 90 روز میں عملدرآمد رپورٹ پیش کرنے کا کہا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ کے چیف سیکرٹریز کو بھی خط لکھ دیے جس میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومتیں شوگر کمیشن رپورٹ کے پیش نظر مختلف شوگر ملز کی تحقیقات کریں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ گنا کاشتکاروں سے کم قیمت پر گنا خریدنے والی شوگر ملز کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے، وفاقی حکومت کے مطابق مختلف شوگرملز کا معاملہ صوبائی محکمہ اینٹی کرپشن کے دائرہ اختیارمیں آتا ہے۔ صوبائی حکومتوں کو شوگرملز کی جانب سے گنا کاشتکاروں کو سود پرقرض دینے کی تحقیقات کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ نے 23 جون کو شوگر ما فیا کے خلاف ایکشن پلان کی منظوری دی تھی اور حکومت نے ایف بی آر کو ملک بھر کی تمام شوگر ملز کا آڈٹ کرنے کا کہہ دیا ہے۔ حکومت نے ایف بی آر کو شوگر ملز کی بے نامی ٹرانزیکشنز کی تحقیقات کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے جب کہ نیب کو کابینہ فیصلے کے تناظرمیں شوگرملز اورمالکان کے مالی معاملات کی تحقیقات کا کہا گیا ہے۔ نیب کو شوگر کمیشن کے نتائج کی روشنی میں ذمہ داران کا تعین کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب کہ اسٹیٹ بینک کو چینی ذخائرکے غلط استعمال اورمشکوک برآمدات کی تحقیقات کا کہا گیا ہے۔ حکومت نے اسٹیٹ بینک کو شوگر ملز کو سبسڈی کی ادائیگی کے باوجود گنا کاشتکاروں کو کم ادائیگی کی تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے تمام شوگر ملز سے متعلق جامع رپورٹ پیش کرنے کا کہا گیا ہے۔ ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کو کارپوریٹ فراڈ کی تحقیقات کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ ایس ای سی پی کو ذمہ داران کے تعین اور قانون کے مطابق عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے جب کہ مسابقتی کمیشن سے شوگر مافیا کے خلاف اقدامات میں تاخیر پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ مسابقتی کمیشن وجوہات کا تعین کرے کہ شوگر کارٹل کے خلاف کوئی ایکشن کیوں نہیں کیا گیا، مسابقتی کمیشن کو شوگرکارٹل کی ذخیرہ اندوزی اور یوٹیلٹی اسٹورز پرچینی کی عدم فراہمی کی تحقیقات کی ہدایت کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت نے خط میں کہا ہے کہ شوگر ملز مالکان کی جانب سے تاخیری حربے اپنائے گئے، حکومت نے شوگر مافیا کی جانب سے بلیک میل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ شوگر کمیشن رپورٹ آنے کے بعد ملز مالکان نے عدالتوں میں چیلنج کر دیا تھا، معاملہ عدالتوں میں زیر سماعت ہونے کے باعث تاخیر کا باعث بنا۔ https://urdu.geo.tv/latest/227561-