حزب اختلاف نے پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی میں قومی احتساب بیورو (نیب) قانون میں ترامیم سے متعلق تجاویز مسترد ہونے پر کمیٹی سے واک آؤٹ کردیا۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن میں قانون سازی اتفاق رائے سے کرنے پر ڈیڈلاک پیدا ہوگیا جب کہ یہ ڈیڈلاک نیب قوانین میں اپوزیشن کی تجاویز پر پیدا ہوا اور حکومت نے نیب قوانین کے حوالے سے اپوزیشن کی تجاویز مسترد کردیں۔ جس کے بعد اپوزیشن ارکان نے کمیٹی سے واک آؤٹ کردیا اور کمیٹی کا اجلاس نہ ہوسکا۔ اس حوالے سے ن لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت کے کہنے پر نیب قانون میں اپنی ترامیم حکومت کو پیش کی تھیں جنہیں مسترد کردیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے ہفتے حکومت نے کہا کہ 4 بلز قومی اسمبلی اورسینیٹ سے متفقہ طورپرپاس کراناچاہتےہیں جن میں سے 2 بلز انسداد دہشتگردی بل پر ترامیم کے تھے اور ایک بل نیب آرڈیننس میں ترامیم کا تھا۔ شاہد خاقان کا کہنا ہے کہ نیب آرڈیننس پرترمیم وہی تھی جو پہلے لائی گئیں، طےہواکہ نیب آرڈیننس پرشق واربحث ہوگی اور ہم نے اپنی ترامیم حکومت کے سامنے رکھیں، حکومت نیب آرڈیننس پرہماری ترامیم سےاتفاق نہیں کرتی۔ پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمان کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی اورن لیگ نے ہمیشہ کہاہےکہ پارلیمان کو مضبوط بنائیں، ہم اے پی سی میں بھی انہی چاروں بلزپر مشاورت کررہے ہیں۔ بعد ازاں پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی کا اجلاس اپوزیشن کی عدم شرکت کے باعث مؤخر کردیا گیا۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی سے خطاب میں کمیٹی کے سربراہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ 'ہم نے اپوزیشن کو بتادیا ہے کہ ان کی دی گئی ترامیم تحریک انصاف کے لیے قابل قبول نہیں، نیب قانون میں ترامیم عوام کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کرنی ہیں، اپوزیشن کی ترامیم سے تو نیب قانون میں منی لانڈرنگ کا معاملہ ختم ہی ہوجائےگا اور احتساب کا ادارہ بے معنی ہوکر رہ جائے گا اور اس ترمیم سے ایف اےٹی ایف میں پھنسنے کاخدشہ ہے کیوں کہ ایف اےٹی ایف میں تو منی لانڈرنگ اور ٹیررفنانسنگ اہم جزو ہیں'۔ https://urdu.geo.tv/latest/227665-