چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اگر ہم باہر نکلے تودھرنےکی ضرورت ہی نہیں ہوگی، ہم آدھے راستے میں ہوں گے اور عمران خان کی حکومت گر جائے گی جبکہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ملک کےحالات سدھارنا سلیکٹڈ حکومت کےبس میں نہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا سپریم کورٹ نیب کو کالا قانون مانتی ہے، اپوزیشن کا بھی یہی مؤقف ہے، یہی مؤقف جسٹس باقر اور اسلامی نظریاتی کونسل کا بھی ہے، نیب ہویا کوئی بھی قانون ہم جمہوریت، انسانی حقوق اور عدالتی نظام پریقین رکھتے ہیں، حکومت نے انسانی اورجمہوری حقوق پرحملہ کیا تو نہ نیب کو سپورٹ کریں گے نہ ایف اے ٹی ایف کو، حکومتی نیب آرڈیننس فیل ہوچکا۔ خیال رہے کہ اپوزیشن نے عید کے بعد حکومت کےخلاف نئے محاذ کی تیاری شروع کردی اور اس سلسلے میں بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ پاکستان کے تین اہم سیاسی رہنما شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان ان دنوں لاہور میں ہیں جہاں گزشتہ روز شہباز شریف اور فضل الرحمان کی ملاقات ہوئی تھی اور آج بلاول نے فضل الرحمان اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ملاقات کی۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی پہلے لاہور میں مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی جس میں عید الاضحیٰ کے بعد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) پر مشاورت کی گئی۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت کے دو برسوں کے اقدامات کے نتیجے میں ریاست کی بقا کا سوال پیدا ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے انتخابات میں عام آدمی کے ووٹ کا مینڈیٹ چوری کیا گیا، اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ وہ مینڈیٹ واپس کیا جائے، پہلے دن سے اس حکومت کو تسلیم نہیں کیا، عمران خان کے جانے کے بعد پہلی ترجیح ملکی معیشت کو اٹھانا ہوگی، عید بعد ہونیوالی اے پی سی کی تجاویز اور ایجنڈا رہبر کمیٹی طے کرے گی۔ بعد ازاں بلاول بھٹو زرداری نے ن لیگ کے صدر شہباز شریف سےبھی ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کی۔ ن لیگ کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ ہمارا اتفاق ہے کہ حکومت نے 2 سال میں ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، دنیا میں کورونا کے بعد اشیاء کی قیمتیں گریں، پاکستان میں قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کے پاس اس منہگائی کا کوئی جواب نہیں ہے، گندم اور چینی کا بحران آپ کے سامنے ہے، انھوں نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی ہے، لاکھوں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ عمران نیازی اب جتنی بھی یقین دہانیاں کرائیں، لوگ سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں ہیں، اس وقت جو ملکی صورتحال ہے اس میں عمران خان نیازی کی حکومت مکمل ناکام ہوچکی ہے۔ عید کے بعد رہبر کمیٹی کی ملاقات ہوگی، شہباز شریف شہباز شریف نے کہا کہ آج کی ملاقات میں ہمارا اتفاق ہوا ہے کہ عید کے بعد رہبر کمیٹی کی ملاقات ہوگی، رہبر کمیٹی اے پی سی کے ایجنڈے کو حتمی شکل دے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ جو بات چیت ہورہی اس میں اپوزیشن کوئی ریلیف نہیں مانگ رہی، ہمیں کہہ رہے ہیں نیب کی اصلاح ہونی چاہیے۔ شہباز شریف نے کہا کہ گندم کی کٹائی کا سیزن ختم نہیں ہوا اور ملک میں بحران پیدا ہوچکا ہے، آج وزیرزراعت کہتے ہیں ہمیں سمجھ نہیں آئی گندم کہاں گئی، ملک میں کئی ہفتے پیٹرول ملا نہیں اور پھر قیمت میں تاریخ کا سب سے زیادہ اضافہ کیا گیا، کہاں ہیں ان کے وہ دعوے کے 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی 2018 میں 5.8 پر آچکی تھی اب 1.9 پر آگئی، کاروبار تباہ ہوگیا، اتنے یوٹرن ہوچکے ہیں کہ تاجر کسی یقین دہانی پر تیار نہیں، اس حکومت کے بس کی بات نہیں کہ حالات سدھار سکے ، اب کہنا ضروری ہوگیا ہے کہ عمران خان کی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی، اس حکومت کا مزید رہنا ملک اور عوام کے لیے کم خطرناک نہیں۔ پی ٹی آئی کے کرپشن اسکینڈلز پر کوئی تحقیقات نہیں ہوتی،بلاول اس موقع پر بلاول نے کہا کہ شہباز شریف کی صحت بہتری کی جانب جاری رہی یہ پورے پاکستان کے لیے خوشخبری ہے، پاکستان کی اپوزیشن اور عوام ایک پیج پر ہیں کہ ہمیں اس سلیکٹڈ کو نکالنا ہوگا۔ بلاول نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کرپشن اسکینڈلز پر کوئی تحقیقات نہیں ہوتی، پہلے بھی کہا ہے کہ جتنے این آر او اس وزیراعظم نے دیے کسی نے نہیں دیے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ یہ پہلی حکومت ہے جہاں چینی ، آٹا ، تیل میں چوری کی گئی۔ بلاول نے کہا کہ شہبازشریف صحت یاب ہوگئے اور ہمارے انقلاب کی قیادت کے لیے تیار ہیں جس پر شہباز شریف نے کہا کہ یہ جوان کندھے ہیں قیادت کی ذمہ داری ان کو سونپوں گا۔ بلاول نے مزید کہا کہ عمران خان کی حکومت ہر پاکستانی کی صحت و زندگی کیلئے خطرہ بن چکی ہے، عید کے بعد رہبر کمیٹی اور اے پی سی میٹنگ میں عوام کیلئے خوشخبری ہوگی۔ ان ہاؤس تبدیلی یا مڈ ٹرم الیکشن کی بات ہم نے ٹیبل پر رکھی ہے، بلاول چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اِن ہاؤس تبدیلی یا مڈ ٹرم الیکشن کی بات ہم نے ٹیبل پر رکھی ہے، ساری سیاسی جماعتوں کو ایک بات پر متفق ہونا پڑے گاکہ کیا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرشہباز شریف سےملاقات نہ کرنی ہوتی تو قومی اسمبلی میں شاہ محمودکوجواب دیتا، اپوزیشن کاموقف واضح ہے، ہم نیب اور ایف اےٹی ایف قانون میں ترمیم کی حمایت نہیں کریں گے۔ بلاول نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ عوام نہیں تھی، جب ہم باہر نکلتے ہیں تو دھرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی، ہم آدھے راستے پر پہنچیں گے اور عمران خان کی حکومت گر جائےگی۔ چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ شاہ محمود نے کلبھوشن کے معاملے اور آرڈیننس پر ابھی تک جواب کیوں نہیں دیا، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق نیب کا قانون اس وقت کالا قانون ہے، اس قانون میں بہتری لانا تمام جمہوری قوتوں اور عوام کی ذمہ داری ہے، اپوزیشن کی جماعتیں اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کررہی ہیں۔ جتنی جلدی ہوسکے اس حکومت سے جان چھڑانی چاہیے،شہباز شریف اس موقع پر شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور عمران خان کے اکٹھے چلنے کی کیا صورتحال ہے؟ میں سمجھتا ہوں جتنی جلدی ہوسکے اس حکومت سے جان چھڑانی چاہیے۔ شہباز شریف نے کہا کہ اے پی سی میں پاکستان کے عوام کی امنگوں کے مطابق فیصلے ہوں گے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا تھا کہ ملکی تاریخ میں اس سے بدترین حکومت نہیں دیکھی، اس سے جان چھڑوائی جائے گی۔ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اس بات پر اتفاق کیاکہ حکومت ہر حوالے سےناکام ہو چکی اس سے جان چھڑوانے کا وقت آگیا ہے۔ https://urdu.geo.tv/latest/227656-