پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس مقبول باقر کے فیصلے کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) اور جمہوریت ساتھ نہیں چل سکتے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی اور موجودہ مشیر شہزا د اکبر نے اب جاکر اپنی جائیداد ظاہر کی ہے، جسٹس فائزعیسیٰ کی منی ٹریل مانگ رہےہیں تو اپنی بھی دیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے معاونین خصوصی کو اپنے اثاثوں کا حساب دینا چاہیے، ان سب پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنتا ہے، عمران خان آج بھی اپنے مشیروں کی کرپشن کا تحفظ کررہےہیں، ن لیگ اور پیپلزپارٹی الزامات کا جواب عدالت میں دے رہے ہیں۔ بلاول نے کہا کہ حکومت کے جھوٹ اور آمرانہ کوششوں کے باوجود ملک کے لیے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) قانون سازی میں ساتھ ہیں۔ چیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کو تمام جماعتوں کے لیے یکساں رویہ اختیار کرنا چاہیے، حکومت نے ایک غیر متنازع بل کو متنازع بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے بل کے نام پر حکومت نے آمرانہ عمل کیا ہے، حکومت جھوٹ کو بنیاد بنا کر چاہتی ہے کہ ایف اے ٹی ایف کو نیب کے ساتھ نتھی کیا جائے، کوئی بھی ایسی قانون سازی نہیں ہونے دیں گے جو پاکستانیوں کے حقوق کے خلاف ہو، حکومت اسمارٹ لاک ڈاون تو کر رہی ہے لیکن ٹیسٹنگ نہیں کر رہی جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ بلاول نے کہا کہ ہم کسی این آر او کے حق میں نہیں، یہ این آر او نہیں کے آر او کی بات کرتے ہیں کیونکہ وہ کلبھوشن کے بارے میں ہے، پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی بھی آئین نہیں قبول ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف قانون سازی کے بارے میں ہر جماعت کی ذمہ داری ہے وہ اسے غور سے پڑھے۔ خیال رہے کہ حکومت نے سینیٹ اور قومی اسمبلی سے اپوزیشن کی ترامیم شامل کرنے کے بعد اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل اور انسداد دہشت گردی ترمیمی بلز کی منظور کرالیا ہے، صرف جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے بل کی مخالفت کی گئی اور ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حمایت پر جے یو آئی ارکان نے ناراضی کا اظہار بھی کیا ہے۔ https://urdu.geo.tv/latest/227811-