وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے کہا ہے کہ سندھ میں تھانٕے اور کچرا کنڈیاں سب بکتے ہیں، یہاں حکومت نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں اس لیے بلدیاتی اداروں کے اختیارات کے لیے عدالت جاؤں گا۔ کراچی آمد پر ائیرپورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر علی زیدی کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال 160 ملی میٹر بارش ہوئی تھی، سرمایہ داروں نے کروڑوں روپے صفائی کے لیے چندہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس صوبے میں تھانٕے اور کچرا کنڈیاں سب بکتے ہیں، گزشتہ ہم نے نالے صاف کرائے تھے اس لیے سڑکوں پر کھڑا نہیں ہوا اور نالوں سے بہہ گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں این ڈی ایم اے بھیجنے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ہم ایک مرتبہ کراچی صاف کر کے انہیں دیں گے، اللہ کرے یہ سنبھال لیں۔ علی زیدی نے صوبائی حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں کوئی حکومت نظر ہی نہیں آ رہی، کراچی کے بلدیاتی اداروں کے اختیارات کے لیے عدالت جاؤں گا اور ہم آئین کی دفعہ 140 اے کے تحت عدالت جا رہے ہیں تاکہ بلدیاتی اداروں کے اختیارات کا مسئلہ حل ہو۔ انہوں نے بتایا کہ سعید غنی کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں اس لیے کراچی آیا ہوں اور چنیسر گوٹھ کا دورہ کروں گا، سندھ میں متوازی حکومت بنانے نہیں بس کراچی کی مدد کے لیے آئے ہیں۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بلاول کے بیرون ملک ڈیڑھ ارب کا حساب لیں گے کہ کہاں سے آیا ہے؟ https://urdu.geo.tv/latest/227859-