وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ کچھ عناصر کے اکسانے پر چمن بارڈر پر کشیدگی پیدا ہوئی۔ اپنے بیان میں شبلی فراز کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ ہماری سرحدیں ہیں، کچھ لوگوں نے زبردستی چمن بارڈر پار کرنے کی کوشش کی، اور چمن سرحد کے ارد گرد چوکیوں کے قریب فائرنگ ہوئی، چمن بارڈر پر سرحد پار سے فائرنگ بھی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کورونا کی روک تھام کے لیے افغانستان کے ساتھ سرحدیں بند کی تھیں، وبا کی وجہ سے طورخم، غلام خان، انگور اڈا بارڈر بند کیے گئے، افغانستان لینڈ لاک ملک ہے اور تجارت پاکستان سے ہو کر جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں نے فیصلہ کیا کہ ایک دن بارڈر کھولا جائے گا لیکن عید سے پہلے تمام بارڈر بند کردیے گئے تھے، روزانہ تین ہزار لوگ سرحد سے آیا جایا کرتے تھے اور افغانستان سے اسمگلنگ بھی کافی ہوتی ہے۔ شبلی فراز کا کہنا تھا کہ کچھ عناصر کے اکسانے کے باعث کشیدگی پیدا ہوئی، اسمگلنگ بند ہوجاتی ہے تو کچھ عناصر پر اثرپڑتا ہے اور وہ ایسےعمل کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی درآمدات کا خیال رکھا ہے، ہم نے تمام چیزوں کا ڈیٹا رکھنے کے لیے بارڈر پر سختی کی ہے، تحریک انصاف کا نظریہ ہے سرحدوں کو بین الاقوامی طور پر سیکیورٹی دی جائے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز چمن میں پاک افغان بارڈر 'باب دوستی' پردھرنا دینے والے مسافروں نے زبردستی سرحد عبور کرنے کی کوشش کی تھی جس دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی تھی اور اس واقعے میں 4 افراد ہلاک اور 19 زخمی ہوگئے تھے۔ https://urdu.geo.tv/latest/227906-