نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ و وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ لمبے عرصے تک لوگوں سے روزگار نہیں چھینا جاسکتا، ایسے نظام کی ضرورت ہے کہ معیشت کا پہیہ بھی چلے اور لوگوں کا تحفظ بھی ہو جبکہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نظام نے کام کرنا شروع کردیا ہے۔ اپنے بیان میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ خوشی ہے کہ قومی فیصلے مشاورت سے ہورہے ہیں، کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال میں بڑے فیصلے کیے جا چکے ہیں اور اب عملدرآمد کا وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ لمبے عرصے تک لوگوں سے روزگار نہیں چھینا جاسکتا، ایسے نظام کی ضرورت ہے کہ معیشت کا پہیہ بھی چلے اور لوگوں کا تحفظ بھی ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ بجائے تمام ملک کو بند کرنے کے کورونا سے متاثرہ مخصوص علاقے بند کریں گے، اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نظام نے کام کرنا شروع کردیا ہے، پنجاب کے 359 اور خیبرپختونخوا کے 177 علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات تک ملک بھر میں 165 افراد وینٹی لیٹرز پر تھے، ایپ کے ذریعے ملک بھر کے اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کا اسٹیٹس اپ ڈیٹ کررہے ہیں، ایپ کے ذریعے مریض کو قریبی اسپتال اور وینٹی لیٹر کی دستیابی کا علم ہوسکے گا۔ وفاقی وزیر نے عوام سے اپیل کی کہ کورونا علامات ظاہر ہونے پر ٹیسٹ کرائیں، یہ سب کے لیے ضروری ہے کیونکہ کورونا کی روک تھام ہر شخص کی انفرادی ذمہ داری ہے۔ خیال رہے کہ ملک میں کورونا کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور اب تک ساڑھے 600 افراد جان کی بازی ہارچکے ہیں جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد 30 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں 9 مئی سے مرحلہ وار نرمی کی جارہی ہے۔ https://urdu.geo.tv/latest/221067-