الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سندھ کے ضلع عمر کوٹ میں ضمنی انتخاب سے قبل سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) اعجاز شیخ کے تبادلے کا نوٹس لے لیا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ایس پی عمر کوٹ کی تبدیلی پر چیف سیکرٹری سندھ سے وضاحت طلب کرتے ہوئے تبادلے کا حکم منسوخ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 52 میں ضمنی انتخاب کی وجہ سے کسی قسم کے تبادلے نہیں کیے جاسکتے۔ واضح رہے کہ پی ایس 52 عمرکوٹ کی نشست پر ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ 17مارچ کو ہو گی، یہ نشست پیپلز پارٹی کے رہنما علی مردان شاہ کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔ خیال رہے کہ سندھ کے نئے انسپکٹر جنرل پولیس مشتاق مہر نے 6 مارچ کو حکومت اور پولیس کے مابین گذشتہ چند ماہ سے تنازع کا باعث بننے والے 2 ایس پیز کو عہدوں سے ہٹا دیا تھا۔ جن دو افسران کو ہٹایا گیا ان میں ضلع شکارپور کے ایس پی ڈاکٹر رضوان احمد خان اور ایس پی عمرکوٹ اعجاز احمد شیخ شامل ہیں ، ان دونوں افسران پر پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت میں شامل وزراء اور عہدیداروں کے خلاف مبینہ رپورٹس دینے کا الزام تھا۔ ایس پی شکارپور ڈاکٹر رضوان احمد خان کو سی پی او رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی جب کہ اعجاز احمد شیخ کو ایک ماہ کی چھٹی پر بھیج دیا گیا،بطور انسپکٹر جنرل پولیس سندھ مشتاق مہر کا یہ پہلا حکم نامہ تھا۔ ان دو افسران کے اقدامات کی وجہ سے سابق آئی جی سندھ سید کلیم امام اور سندھ حکومت کے مابین شدید رسہ کشی شروع ہوگئی تھی اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کلیم امام کو عہدے سے ہٹا کر مشتاق مہرکو نیا آئی جی سندھ تعینات کرنے کے لیے وزیراعظم عمران خان سے سفارش کی تھی۔ صوبے کے ان دونوں پولیس افسران کو کچھ عرصہ قبل سندھ حکومت کی جانب سے عہدوں سے ہٹایا گیا تھا مگر عدالتی حکم پر انہیں واپس ان ہی اضلاع کا چارج دے کر کام جاری رکھنے کا کہا گیا تھا۔ https://urdu.geo.tv/latest/215951-