جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن جماعتوں کو ان ہاؤس (ایوان کے اندر) سے تبدیلی کا اشارہ دے دیا۔ مولانا فضل الرحمان کے گھر اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) ہوئی جس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری شریک نہیں ہوئے۔ اے پی سی میں آزادی مارچ اور مطالبات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا تاہم اب اے پی سی اور مذاکرات کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن جماعتوں کو ان ہاؤس (ایوان کے اندر) سے تبدیلی کا اشارہ دیا ہے، پارلیمان میں حکومت کی تبدیلی کی جانب آگے بڑھنے پر بھی مشاورت کی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ اے پی سی میں مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تاہم ن لیگ اور پیپلز پارٹی دھرنے میں شرکت پر اپنی جماعتوں میں مشاورت کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رہائی کے بعد مریم نواز دھرنے سے خطاب کر سکتی ہیں۔ خیال رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے مریم نواز کی ضمانت منظور کرلی ہے جس کے بعد کل ان کی رہائی متوقع ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں شاہراہ دستور اور ڈی چوک تک آنے پر بھی مشاورت کی گئی جبکہ قومی حکومت کی تشکیل کی تجویز اے پی سی نے یکسر مسترد کر دی۔ یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں آزادی مارچ کے شرکاء نے 5 روز سے اسلام آباد کے ایچ نائن گراؤنڈ میں پڑاؤ ڈالا ہوا ہے۔ جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے یکم نومبر جمعے کی شام وزير اعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کیلئے 48 گھنٹوں کی مہلت دی تھی جو اتوار کی شام ختم ہوچکی ہے تاہم وزیراعظم مستعفی نہیں ہوئے۔ https://urdu.geo.tv/latest/207692-