حکومتی کمیٹی اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے گھر پر ملاقات ہوئی۔ ذرائع کے مطابق حکومتی کمیٹی اور رہبر کمیٹی کے درمیان مذاکرات میں وزیراعظم کے استعفے پر پہلی بار بات ہوئی۔ مذاکرات میں دونوں جانب سے مطالبات سامنے رکھے گئے جس پر اعلیٰ قیادت سے مشاورت کے بعد دوبارہ ملاقات پر اتفاق کیا گیا۔ مذاکرات کے بعد حکومتی کمیٹی اور اپوزیشن کمیٹی کے ارکان نے میڈیا سے گفتگو کی، اس موقع پر رہبر کمیٹی کے کنوینر و خیبرپختونخوا میں اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی نے کہا کہ ہم نے اپنے مطالبات حکومتی کمیٹی کے سامنے رکھے ہیں جس کے بعد اب منگل کو میرے گھر پر دوبارہ ملاقات ہوگی جس میں تفصیل سے بات ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی کمیٹی نے ہمارے مطالبات سنے اور کافی ڈسکشن ہوئی۔ اس کے بعد حکومتی کمیٹی کے سربراہ و وزیردفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ معاہدے پر عمل درآمد کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں، پہلا قدم کامیاب ہوا، ملاقات میں مطالبات اور باتیں سنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ہم کامیاب ہوئے ہیں اور امید ہے کہ اچھا نتیجہ نکلے گا۔ یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں آزادی مارچ کے شرکاء نے 5 روز سے اسلام آباد کے ایچ نائن گراؤنڈ میں پڑاؤ ڈالا ہوا ہے۔ جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے یکم نومبر جمعے کی شام وزير اعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کیلئے 48 گھنٹوں کی مہلت دی تھی جو اتوار کی شام ختم ہوچکی ہے تاہم وزیراعظم مستعفی نہیں ہوئے۔ https://urdu.geo.tv/latest/207695-