کراچی: جیو کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں میزبان شاہزیب خانزادہ نے اپنے تجزیے میں کہاہے کہ حکومت کے خلاف تحریک کے اہم مرحلے میں اپوزیشن غلط فہمی کا شکارہے ،قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کی روشنی میں کیا پی ٹی آئی ٹھیک مولانا جو کررہے ہیں وہ غلط ہے۔ْ انہوں نے کہا کہ ایک فیصلہ جسے تحریک انصاف ناپسند کرتی رہی، جس کیخلاف تحریک انصاف نے دو نظرثانی کی اپیلیں دائر کیں، وہ فیصلہ جس سے ایک عدالتی تنازع کھڑا ہوا جوا ب تک برقرار ہے، اب آزادی مارچ کیلئے تحریک انصاف کی حکومت اسی فیصلے کا سہارا لے رہی ہے۔ شاہ زیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ جمعرات کو وزیرداخلہ اعجاز شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ مولانا کا مارچ اگر سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ہوگا تو اسے نہیں روکا جائے گا۔ شاہ زیب خانزادہ کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلے میں لکھا تھا کہ جس شخص کو بھی حکومت کیخلاف کوئی شکایت تھی وہ اس دھرنے میں شامل ہوگیا، خفیہ ادارے کی رپورٹ کے مطابق شیخ رشید، اعجاز الحق اور پاکستان تحریک انصاف کے علماء ونگ نے آڈیو پیغامات ریلیز کیے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید لکھا تھا کہ تحریک لبیک نے یہ دیکھا ہوگا کہ تحریک انصاف نے ریڈ زون پر کئی مہینوں تک اپنا کیمپ لگالیا اور انہیں جوڈیشل کمیشن بنوانے میں کامیابی حاصل ہوئی مگر اسی کمیشن نے تحریک انصاف کے الزامات کو مسترد کردیا تھا جس کے بعد تحریک انصاف نے علاقے کی صفائی اور اس کی بحالی کیلئے تلافی تو دور کی بات ہے پی ٹی آئی کی قیادت نے تو معافی تک نہیں مانگی اورا نہیں مفت کی پبلسٹی ملتی رہی۔ شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف اچانک ایک شکایت سامنے آئی اور بعد میں صدر پاکستان کی طرف سے ان کیخلاف ریفرنس بھی دائر ہوگیا، تحریک انصا ف کی حکومت آزادی مارچ کیخلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اسی فیصلے کا استعمال کررہی ہے، انہیں اس فیصلے کا استعمال کرنا بھی چاہئے کیونکہ یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے مگر اس فیصلے کی روشنی میں تحریک انصاف یہ نہیں کہہ سکتی کہ ہم نے جو دھرنا دیا تو وہ ٹھیک تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب جو مولانا کررہے ہیں وہ غلط ہے، جمعرات کو وزیرداخلہ اعجاز شاہ نے پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ نواز شریف کا نام نہ انہوں نے ای سی ایل میں ڈالا، نہ ان کا نام ای سی ایل میں ہے،کیا واقعی ایسا ہے کیونکہ عدالت نے تو نہیں کہا کہ نواز شریف ملک سے باہر جاسکتے ہیں یا نہیں جاسکتے۔ جے یو آئی (ف) کے رہنما اکرم درانی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کا آزادی مارچ کا اپنا پروگرام ہے باقی جماعتوں نے صرف شرکت کرنی تھی، ن لیگ کا مقصد اپنے کارکنوں کو یہ بتانا تھا کہ شہباز شریف جلسہ میں شریک ہوں گے ، ہمارا اپنا پروگرام ہے کہ کتنے دن اسلام آباد میں رہنا ہے۔ سینئر صحافی مجیب الرحمٰن شامی نے کہا کہ ن لیگ کے اندرپس پردہ بھی کچھ چل رہا ہے، ن لیگ کا پنجاب میں آزادی مارچ کے ساتھ رویہ تعجب خیز ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا رہبر کمیٹی میں اکتیس اکتوبر کو اسلام آباد میں جلسہ کا طے ہوا تھا، تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے اسی طرح ترتیب دیا، بلاول بھٹو زرداری کو شیڈول کے مطابق یکم نومبر کو رحیم یار خان میں جلسہ کرنا ہے، اے این پی سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ہم آج اپنا جلسہ کردیں گے، بلاول بھٹو آج جلسہ میں شرکت کریں گے ،کل رہبر کمیٹی کے ارکان جلسہ میں ہوں گے جبکہ بلاول بھٹو بھی کل کے جلسہ میں کچھ دیر کیلئے شرکت کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول نے مولانا سے کہا ہے کہ وہ کوشش کریں گے کہ رحیم یار خان کا جلسہ چند گھنٹے موخر کردیا جائے،ن لیگ نے مشاورت سے پہلے جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ن لیگ کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ ن لیگ کاجلسہ ملتوی کرنے کا بیان اکرم درانی سے مشاورت کے بعد جاری کیا گیا، ہم صبح سے ان کے ساتھ رابطے میں تھے، ہم جاننا چاہ رہے تھے کہ شہباز شریف کو کب جلسہ گاہ پہنچنا چاہئے، ان کا کہنا تھا کہ اکرم درانی کی طرف سے ہمیں کہا گیا کہ آپ جمعہ کی نماز کے بعد جلسہ گاہ میں آئیں، ہم نے اسی لیے جمعہ کا اعلان کیا تھا تاکہ ہمارے قافلوں کو اطلاع ہوجائے، شہباز شریف جمعرات کو بھی جلسہ میں شریک ہونے کیلئے تیار تھے۔ لیگی رہنما احسن اقبال نے کہا کہ ن لیگ کی سینئر قیادت نے لاہور میں آزادی مارچ کا بھرپور استقبال کیا، ایک چینل کے علاوہ کسی چینل نے وہ استقبال نہیں دکھایا، مولانا فضل الرحمٰن نے ہمیں آزادی مارچ میں شمولیت کی دعوت دی تھی، نواز شریف نے بھی خط میں ہدایت کی کہ اکتیس اکتوبر کو ان کے پروگرام میں شرکت کی جائے،مولانا فضل الرحمٰن تمام جماعتوں سے مشاورت کر کے آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے، اپوزیشن جماعتیں متفق ہیں کہ اس حکومت کو فوراً جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو جتنا وقت دیں گے ملک کیلئے مشکلات بڑھیں گی،آئین اور نظام کے اندر رہ کر حکومت کو جانے پر مجبور کریں گے، عمران خان کہتے تھے پچاس لوگ ان کے خلاف نعرے لگا دیں گے تو گھر چلے جائیں گے آج پورا ملک ان کیخلاف نعرے لگارہا ہے۔ سینئر صحافی مجیب الرحمٰن شامی نے کہا کہ ن لیگ کے اندرپس پردہ بھی کچھ چل رہا ہے، ن لیگ کا پنجاب میں آزادی مارچ کے ساتھ رویہ تعجب خیز ہے، سمجھا جارہا تھا کہ ہر شہر میں ن لیگ کے کارکن مولانا کا بھرپور استقبال کریں گے لیکن ایسا نہیں ہوا، اس طرح کے دھرنوں اور مارچ سے حکومت نہیں جانی چاہئے، آزادی مارچ سے حکومت تو نہیں گرے گی البتہ کمزور ضرور ہوگی، مولانا فضل الرحمٰن کو عمران خان کی طرح لائیو کوریج کی سہولت میسر نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا نے حکومت کو کمزور کرنے کے ساتھ مقتدر حلقوں کو بھی اپوزیشن کے ساتھ معاملہ کرنے سے متعلق سوچنے پر مجبور کردیا ہے، تاجروں اور صنعتکاروں کی شکایات کے ازالہ کیلئے کمیٹیاں بن رہی ہیں لیکن سیاستدانوں کو کوئی نہیں پوچھ رہا ہے، حکومت اور مقتدر حلقوں کو سوچنا پڑے گا کہ اگر وہ ایک صفحہ پر ہیں تو اپوزیشن کیخلاف انتقامی کارروائی کے اثرات ان پر بھی ہوں گے۔ https://urdu.geo.tv/latest/207505-