پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رکن قومی اسمبلی داور خان کنڈی نے ساتھیوں سمیت مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کردیا۔ پشاور میں تحریک انصاف کے سابق رکن قومی اسمبلی داور خان کنڈی نے پشاور پریس کلب میں ایک تقریب میں مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر داور خان کنڈی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے تبدیلی لانے کا دعوٰی کیا تھا مگر کوئی تبدیلی نہ لائی گئی بلکہ ہمارا ملک تباہی کی طرف جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ملک کی بہتری کے لیے مسلم لیگ ن میں شمولیت کر رہا ہوں اور نواز شریف کی قیادت میں ملک کے لیے کام کرنا چاہتا ہوں۔ اس موقع پر ن لیگ کے صوبائی صدر امیر مقام کا کہنا تھا کہ 18 ماہ میں ایک بھی چوری ثابت نہیں ہو سکی بلکہ ان 18 ماہ میں 12 ارب ڈالر قرض لیے گئے مگر اس سے حکومت سے ایک بھی منصوبہ شروع نہ ہوسکا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا،جب تک عمران خان وزیراعظم ہیں تبدیلی نہیں آسکتی۔ خیال رہے کہ داور خان کنڈی 2013 کے عام انتخابات میں این اے 25 ڈیرہ اسماعیل خان سے پی ٹی آئی کی طرف سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے ۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں لڑکی کی بے حرمتی کا واقعہ اکتوبر 2017 میں ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک لڑکی کی بے حرمتی کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں مخالفین نے پانی بھر کر گھر جانے والی 16سالہ لڑکی کو بھرے بازار میں بے لباس کیا اور برہنہ حالت میں اسے گلیوں اور بازاروں میں گھمایا تھا۔ واقعےکی ویڈیو شوشل میڈیا پر آنے کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیاتھا۔ یہ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد داور خان کنڈی نے الزام عائد کیا تھا کہ پی ٹی آئی کے علی امین گنڈا پور ڈیرہ اسماعیل خان میں لڑکی کے ساتھ پیش آنے والے بے حرمتی کے واقعے میں ملوث ملزمان کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر داور کنڈی کا اخراج بعد ازاں نومبر 2017 میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر داور خان کنڈی کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔ اپنے ایک ویڈیو بیان میں عمران خان کا کہنا تھا کہ داور خان کنڈی گزشتہ ایک سال سے میڈیا پر جا کر پارٹی کے خلاف بیانات دے رہا ہے اور لڑکی کی بے حرمتی کے حوالے سے بھی داور کنڈی نے علی امین گنڈا پور پر بالکل غلط الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھاکہ میں نے آئی جی خیبر پختونخواہ صلاح الدین محسود سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں علی امین یا کسی اور کی جانب سے کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ https://urdu.geo.tv/latest/216073-