کورونا وائرس کے باعث ملک میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران لاہور میں آٹا نایاب ہوگیا جبکہ دالوں کی قیمتوں میں بھی 32 سے 58 روپے فی کلو تک کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ دنیا کورونا وائرس سے نمٹنے میں الجھی ہے اور لاہور میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے لگی ہیں۔ دالیں، چینی اور آٹا مارکیٹ میں مہنگے داموں بکنے لگا جبکہ کئی دکانوں اور چکیوں پر آٹا دستیاب ہی نہیں۔ لاہور میں دالوں، چینی اور آٹے کی سپلائی کم ہو گئی جس پر منافع خوروں نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور دالوں کی قیمت میں 32 سے 58 روپے فی کلو جبکہ چینی 10 روپے کلو تک مہنگی کر دی۔ دال چنا 118 روپے سے بڑھ کر فی کلو 150 روپے ، دال ماش 42 روپے فی کلو مہنگی ہونے کے بعد 240 روپے میں فروخت ہونے لگی۔ دال مونگ کی قیمت میں 58 روپے کے اضافے کے بعد نیا ریٹ 260 روپے فی کلو جبکہ چینی 75 کی بجائے 85 روپے فی کلو میں دستیاب ہے۔ دوسری جانب آٹے کا بحران بھی سر اٹھانے لگا ہے اور شہر کے کئی مقامات پر چکیوں اور دکانوں میں آٹا دستیاب ہی نہیں۔ چکی مالکان اور دکانداروں کا کہنا ہے کہ گندم مہنگی اور سپلائی کم ہے، آٹا جتنا بھی ہو فوری بِک رہا ہے۔ ترجمان ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اشیائے ضروریہ مہنگی بیچنے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، مجسٹریٹس فیلڈ میں کام کر رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق آٹے کے ٹرک شہر کے 25 پوائنٹس پر کھڑے کیے گئے ہیں جن سے شہری اپنی ضرورت کے مطابق آٹا خرید سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافے کے بعد لاک ڈاؤن کیا گیا جس کے باعث شہریوں کی نقل و حرکت بھی محدود کردی گئی ہے۔ گزشتہ روز قومی رابطہ کمیٹی میں بھی اشیائے ضروریہ کی قلت دور کرنے کے لیے گُڈز ٹرانسپورٹ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ https://urdu.geo.tv/latest/217297-