اسلام آباد: ہائیکورٹ نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کے سلسلے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر سزا معطلی کی درخواست پر محکمہ داخلہ پنجاب کو نوٹس جاری کردی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے نوازشریف کے علاج سے متعلق تمام تفصیلات طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب سے جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 12 فروری تک ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ 24 دسمبر 2018 کو احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کوالعزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد نیب نے انہیں گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا تھا۔ نواز شریف کے وکلاء کی طرف سے 26 جنوری کو دائر کی گئی ایک درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سابق وزیراعظم کی صحت غیر تسلی بخش ہے انہیں عارضہ قلب اور گردوں کا مرض لاحق ہے، لہذا ان کی درخواست ضمانت پر العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسوں کی اپیلوں سے پہلے فیصلہ سُنایا جائے اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا معطل کرکے نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کیا جائے۔ درخواست کے ساتھ اسپیشل میڈیکل بورڈ کی 17 جنوری کی رپورٹ بھی جمع کرائی گئی تھی۔ واضح رہے کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید نواز شریف کا چند روز قبل جیل میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے طبی معائنہ کیا تھا جس میں امراض قلب کے ماہرین بھی شامل تھے، جس کے بعد انہیں ڈاکٹروں کے مشورے پر سروسز اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ https://urdu.geo.tv/latest/196642-#_