پنجاب کےوزیرِ قانون راجا بشارت کاکہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کے کیسزمختلف ہیں، نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس محکمہ داخلہ کومل گئی ہیں،پنجاب حکومت ان پر ایک دو روز میں فیصلہ کر لے گی، حکومت کےپاس عدالت جانےکاآپشن موجودہے۔ صوبائی وزیرِ قانون نےکہاکہ مریم نواز کی بیرون ملک روانگی سمیت ڈاکٹر عدنان کی بے شمار خواہشات ہو سکتی ہیں، حمزہ شہباز کی ضمانت منظوری کو سرکاری وکلاء کی ناقص کارکردگی قرار نہیں دیا جا سکتا، ہر کیس کا میرٹ الگ ہوتا ہے۔ پنجاب حکومت کے مطالبے پر سابق وزیراعظم نواز شریف کی تفصیلی میڈیکل رپورٹس 31 جنوری کو جمع کرادی گئیں تھیں۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے سابق وزیراعظم نوازشریف کو ایک خط لکھا گیا تھا جس میں ان سے 3 روز کے اندر میڈیکل رپورٹس محکمہ داخلہ میں جمع کرانے کا کہا گیا تھا۔ سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے اپنی ٹوئٹس میں بتایا کہ پنجاب حکومت کے مطالبے پر نواز شریف کی تفصیلی رپورٹس جمع کرادی گئی ہیں۔ ڈاکٹر عدنان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کے خط کے جواب میں آج تفصیلی طبی خط جمع کرایا گیا، فراہم کردہ دستاویز سے نوازشریف کی صحت سے متعلق مکمل وضاحت ہوتی ہے۔ خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف 19 نومبر 2019 سے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں جہاں ان کے مسلسل ٹیسٹ اور طبی معائنہ کیا جارہا ہے۔ پنجاب حکومت نے نواز شریف کی بیرون ملک قیام میں توسیع کے معاملے پر صوبائی وزیر قانون، چیف سیکرٹری پنجاب، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری قانون پر مشتمل کمیٹی بنائی تھی۔ 24 دسمبر 2018 کو احتساب عدالت اسلام آباد نے نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ 29 اکتوبر 2019 کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے طبی بنیادوں پر سابق وزیراعظم کی 8 ہفتوں کے لیے سزا معطل کردی تھی۔ ہائیکورٹ کی جانب سے نوازشریف کی ضمانت منظوری اور سزا معطلی کا تحریری فیصلہ جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا کہ نوازشریف کی ضمانت 8 ہفتوں کے لیے منظور اور سزا معطل کی جاتی ہے۔ فیصلے کے مطابق نوازشریف کی طبیعت خراب رہتی ہے تو وہ ضمانت میں توسیع کیلئے پنجاب حکومت سے رجوع کرسکتے ہیں، طبیعت خرابی پر نوازشریف 8 ہفتوں کی مدت ختم ہونے سے پہلے پنجاب حکومت سے رجوع کرسکتے ہیں۔ فیصلے میں حکم دیا گیا کہ پنجاب حکومت کے فیصلہ کیے جانے تک نوازشریف ضمانت پر رہیں گے، اگر نوازشریف پنجاب حکومت سے رجوع نہیں کرتے تو 8 ہفتے بعد ضمانت ختم ہوجائے گی۔ 16 نومبر 2019 کو لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا تھا اور انہیں علاج کی غرض سے 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی جس کے بعد وہ 19 نومبر 2019 کو لندن روانہ ہوگئے تھے۔ https://urdu.geo.tv/latest/213791-