اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ نئے انتخابات پر کوئی مفاہمت نہیں ہو گی۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’اجلاس میں ملک کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لیا گیا، سیاسی اور آئینی بحران کا حل حکومت کا خاتمہ ہے، سیاسی و آئینی بحران کا حل فوری آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ارکان کے ناموں کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، یہ کمیٹی الیکشن کمیشن کی خالی اسامیوں کے نام فائنل کرے گی۔ فضل الرحمان نے کہا کہ ’ہم اپنے چار نکات پر قائم ہیں، حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے پورا ریاستی ڈھانچہ معطل ہو گیا ہے، وزیر اعظم کا طرز حکمرانی نفرت اور انتشار کو فروغ دے رہا ہے‘۔ سربراہ جے یو آئی نے مزید کہا کہ ’سیاسی اور آئینی بحران کا حل حکومت کا خاتمہ ہے، سیاسی و آئینی بحران کا حل فوری آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہیں، تمام صوبوں اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں احتجاجی مظاہرے ہوں گے، نئے انتخابات پر کوئی مفاہمت نہیں ہو گی‘۔ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت آل پارٹیز کانفرنس 9 سیاسی جماعتوں پر مشتمل تھی۔ مولانا فضل الرحمان کی حکومت مخالف تحریک خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ سال یعنی 25 جولائی 2018 کو ہونے والے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات لگا کر وزیراعظم عمران خان سے مستعفی ہونے اور ملک میں فوری نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے 27 اکتوبر کو کراچی سے آزادی مارچ کا آغاز کیا تھا، جے یو آئی کا قافلہ مختلف شہروں سے ہوتا ہوا 31 اکتوبر کی رات اسلام آباد پہنچا تھا جہاں انہوں نے پشاور موڑ کے قریب ایچ نائن گراؤنڈ میں دھرنا دیا تھا۔ اسلام آباد میں 14 روز کے دھرنے کے بعد مولانا فضل الرحمان نے 13 نومبر کو دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ملک بھر کے شہروں کو بند کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد جے یو آئی کی جانب سے مختلف شہروں میں اہم شاہراہوں پر دھرنے دیے گئے تاہم 19 نومبر کو اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد دھرنے ختم کرنے کا اعلان کیا گیا اور کہا گیا کہ اب ضلعی سطح پر مشترکہ احتجاجی جلسے کیے جائیں گے اور احتجاج کا دائرہ کار ضلعی سطح پر ہوگا۔ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا سارا زور اب الیکشن کمیشن میں حکمران جماعت تحریک انصاف کیخلاف دائر فارن فنڈنگ کیس پر ہے۔ رہبر کمیٹی نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی تھی کہ اس کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے جسے منظور کرلیا گیا ہے۔ https://urdu.geo.tv/latest/208978-