مسلم لیگ (ق) کے مرکزی رہنما و اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی جس میں دھرنا ختم کرنے سے متعلق لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں آزادی مارچ،حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات پر بھی مشاورت کی گئی۔ واضح رہے کہ گذشتہ 24 گھنٹے میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونےوالی یہ تیسری ملاقات ہے۔ اس حوالے سے چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ مثبت پیش رفت ہورہی ہے، کئی چیزیں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، تھوڑے صبر اور محنت کی ضرورت ہے اور محنت اس لیے ہو رہی ہے کہ مثبت طریقے سے معاملات منطقی انجام کو پہنچیں۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ ہمارے مقصد کو کامیابی ملے گی لیکن اس میں کچھ وقت لگے گا۔ اس سے قبل گزشتہ شب بھی مولانا فضل الرحمان سے چوہدری پرویز الٰہی نے ملاقات کی تھی جس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن خود مانتاہے کہ 95 فیصد فارمز پر دستخط تک نہیں، آج ایک سال تک پارلیمانی کمیشن کیوں فعال نہیں ہوسکا۔ مولانافضل الرحمان نے مزید کہا کہ حکومت کوئی درمیانی راستہ نکالنا چاہتی ہے تو تجاویز سامنے لائے پھر دیکھیں گے جب کہ مثبت جواب کا ابھی مرحلہ نہیں آیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان ذوالفقار علی بھٹو سے بڑا آدمی نہیں، اگر اس نے دوبارہ الیکشن کرایا تو یہ کیوں نہیں کراسکتے۔ واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے آزادی مارچ کا آج ساتواں روز ہے اور شرکاء سرد موسم کے باوجود بدستور ایچ نائن گراؤنڈ میں موجود ہیں۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن و اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی مذاکراتی کمیٹی کے علاوہ مولانا فضل الرحمان کو منانے کی انفرادی کوششیں بھی کر رہے ہیں۔ https://urdu.geo.tv/latest/207797-