تلہ گنگ: جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان (جے یو آئی۔ ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ پلان بی پر عمل درآمد جاری رہے گا، اس حوالے سے فیصلہ منگل کو رہبر کمیٹی کے اجلاس میں ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ منگل کو اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں جے یو آئی (ف) آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ فضل الرحمان نے کہا کہ ’نواز شریف کے بیرون ملک علاج پر ان کیلئے دعائیں اور نیک خواہشات ہیں، حکومت نے نوازشریف کی صحت کے حوالے سے کافی مشکلات پیدا کیں، ہماری دعا ہے نواز شریف جلد از جلد صحت یاب ہوکر پاکستان آئیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ عدلیہ نے نوازشریف کی صحت کے بارے میں درست فیصلہ کیا‘۔ دھرنے کیوں دیے جارہے ہیں؟ خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں جمعیت علمائے اسلام (ف) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا آزادی مارچ 27 اکتوبر سے شروع ہوا اور ملک بھر سے قافلے 31 اکتوبر کی شب اسلام آباد میں داخل ہوئے تھے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں نے آزادی مارچ کی حمایت کی تاہم ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے دھرنے کی مخالفت کی تھی۔ اسلام آباد کے ایچ 9 گراؤنڈ میں آزادی مارچ کے شرکاء نے 14 روز قیام کیا، اس دوران روز سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان شرکاء سے خطاب کرتے رہے۔ یکم نومبر کو اپنے خطاب میں مولانا نے وزیراعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کیلئے 48 گھنٹوں کی مہلت دی تاہم یہ مہلت ختم ہوگئی اور وزیراعظم مستعفی نہیں ہوئے۔ نومبر کو مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ملک بھر میں دھرنے شروع کرنے کا اعلان کردیا جو ملک کے مختلف شہروں میں جاری ہیں۔ جے یو آئی نے وزیراعظم عمران خان کے استعفے اور نئے انتخابات سمیت متعدد مطالبات کررکھے ہیں تاہم حکومت اور اپوزیشن کے درمیان وزیراعظم کے استعفے اور قبل از وقت انتخابات کے مطالبے پر ڈیڈ لاک ہے۔ https://urdu.geo.tv/latest/208518-