اسلام آباد: قومی اسمبلی میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل پیش ہونے سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ وزیراعظم کی زیر صدارت پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں پارٹی کارکنان نے نے پیپلزپارٹی کی ترامیم کی مخالفت کی۔ ذرائع نے بتایا کہ پارلیمانی پارٹی کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تقرری وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ہونا چاہیے، ان کے اختیار کو پارلیمنٹ سے مشروط کرنا مناسب نہیں۔ ذارئع کے مطابق اجلاس میں پارلیمانی پارٹی نے سروسز ایکٹس میں ترامیم سے متعلق تینوں بلز کی متفقہ منظوری دی۔ ذارئع کے مطابق دوران اجلاس وزیرقانون فروغ نسیم نے کہا کہ اپوزیشن کو ان بلز پر رائے اور ترامیم کے لیے پورا موقع دیا جائے جب کہ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ قومی مفاد کی اہم قانون سازی ہے، امید ہے اپوزیشن اپنا مثبت کردار ادا کرے گی۔ اجلاس میں ارکان کی جانب سے ایک بار پھر ترقیاتی فنڈز کا مطالبہ کیا گیا جس پر وفاقی وزیر فواد چوہدری کی جانب سے ارکان قومی اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کی مخالفت کی گئی۔ فواد چوہدری کی مخالفت پر پارٹی ارکان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری صاحب نے خود تو کینال منظور کروالی، ہم ووٹرز کو کیا منہ دکھائیں گے۔ ذارئع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام شروع ہونے سے آپ لوگوں کے تحفظات دور ہوجائیں گے۔ https://urdu.geo.tv/latest/211718-