وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے سندھ حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کو مبارک باد پیش کی ہے۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری اور سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے جیو نیوز کے پروگرام جیوپارلیمنٹ میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر اظہار خیال کیا۔ اظہار خیال کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ کورونا سے نمٹنے کے لیے کچھ صوبائی حکومتوں نے فعال کردار ادا کیا اور کچھ نے نہیں، اس معاملے میں سندھ حکومت سب سے زیادہ فعال رہی ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ سندھ نے کورونا سے نمٹنے کے بہت اچھے اقدامات کئے جس کے لیے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کو مبارک باد دیتا ہوں۔ پنجاب حکومت کی جانب سے کورونا وائرس سے متعلق اقدامات کے سوال پر فعاد چوہدری نے کہا کہ اس پر پنجاب حکومت ہی سے پوچھیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی کئی معاملات میں جتنی اچھی کمیونیکیشن ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہوئی، تفتان معاملے میں بھی وفاقی حکومت نے اچھی کمیونیکیشن نہیں کی جب کہ تفتان میں زائرین کو روکنا بلوچستان حکومت کا کام تھا۔ لاک ڈاؤن کے حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ ایسا کرنے میں اشیاء خورد و نوش کی فراہمی سمیت تین چار مسائل ہیں، کرفیو لگایا تو تین چار گھنٹے بعد لوگ اٹھائیں گے جس کے بعد لوگوں کی لائنیں لگ جائیں گی۔ کورونا وائرس پر مذہبی انتہاپسندی سے متعلق انہوں نے کہا کہ اللہ کا عذاب رجعت پسند مذہبی طبقے کی جہالت ہے، کورونا کے پھیلاؤ میں بڑا حصہ مذہبی اجتماعات کا ہے اور رجعت پسند علماء معاشرے کی تباہی کرتے ہیں مگر جو علماء حق کی بات کرتے ہیں وہ نعمت ہیں۔ سیاسی جماعتوں سے رابطہ کرنے پر انہوں نے کہا کہ قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس روزانہ ہونا چاہیے مگر ایمرجنسی میں سیاسی جماعتوں سے رابطے کرنا وقت ضائع کرنا ہے۔ علاوہ ازیں میر شکیل الرحمان کی گرفتاری سے متعلق سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ وفاقی حکومت کو جو کردار ادا کرنا چاہیے تھا وہ نہیں کیا:مرتضی وہاب ادھر سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب نے موجودہ صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کو جو کردار ادا کرنا چاہیے تھا وہ نہیں کیا کیونکہ سندھ حکومت نے وفاق اور دیگر صوبوں سے جو گزارشات کیں اس پر متوقع ردعمل نہیں ملا۔ ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ بارڈر کنٹرول صوبائی نہیں وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، زائرین کی مانیٹرنگ اور ان کو قرنطینہ کرنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری تھی۔ مرتضی وہاب نے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں نے وزیراعظم کے ویڈیو کانفرنس سے چلے جانے پر واک آؤٹ کیا تھا جب کہ اس وقت وزیراعظم کے پاس کورونا سے زیادہ کوئی معاملہ اہم نہیں ہونا چاہیے تھا، اتحاد پیدا کرنے کی ذمہ داری وزیر اعظم کی ہے۔ امدادی سامان کی فراہمی سے متعلق مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ امدادی سامان کی تقسیم کا کنٹرول این ڈی ایم اے کے پاس ہے، سندھ کو ابھی صرف ماسک ملے ہیں باقی سامان نہیں ملا۔ مرتضی وہاب نے کہا کہ لاک ڈاؤن کا مطلب ضروری اشیاء پر پابندی لگانا نہیں ہے، اگر یہی اقدامات ایک ماہ پہلے کر لیتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔ ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے میرشکیل الرحمان کی گرفتاری کی سخت مذمت کی ہے، عدالت انہیں ضمانت پر رہائی دے۔ https://urdu.geo.tv/latest/217341-