وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ دنیا آہستہ آہستہ اب وہاں پہنچ رہی ہے جو وزیراعظم عمران خان کا وژن تھا۔ قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران اسد عمر کا کہنا تھا کہ ہمیں اِس وبا کے ساتھ چلنا ہے، ووہان میں بھی کیسز دوبارہ سامنے آئے ہیں جبکہ برطانیہ نے سخت لاک ڈاؤن اور سوئیڈن نے ٹارگیٹڈ لاک ڈاؤن کیا، برطانیہ میں جہاں سخت لاک ڈاؤن ہوا وہاں آبادی کے لحاظ سے سوئیڈن سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا آہستہ آہستہ اب وہاں پہنچ رہی ہے جو وزیراعظم عمران خان کا وژن تھا، ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ لوگوں کو معاشی بدحالی سے بھی بچانا ہے، باقی ممالک نے بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کرنا شروع کی کیونکہ ان کو وہ نظر آنا شروع ہوگیا تھا جو عمران خان دو مہینے پہلے سے دیکھ رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم مغرب کی اندھی تقلید نہیں کرتے اس پر ہمیں کوئی شرمندگی نہیں، پاکستان میں عالمی معیار کے وبائی امراض سے متعلق ماہرین اور ڈاکٹر موجود ہیں، پاکستان میں کوروناکیسز بڑھ گئے اور اموات زیادہ ہوگئیں لیکن حالات بے قابو نہیں ہیں۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ آج پاکستان میں 70 لیبارٹریاں ہیں جو کورونا کا ٹیسٹ کرسکتی ہیں، آج ساڑھے 13 ہزار سے زائد کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں جنہیں مزید بڑھائیں گے جبکہ ایک ہزار سے زائد وینٹی لیٹرز کا اضافہ کیا جائے گا اور ایک لاکھ صحت ورکرز کو حفاظتی اقدامات سے متعلق ٹریننگ دی جائے گی۔ خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے پیش نظر جزوی لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کردی گئی ہے جس کے باعث کاروباری مراکز پوری طرح کھل گئے ہیں اور سماجی فاصلے اور طے کردہ ضابطہ کار پر بھی عمل درآمد نہیں کیا جارہا۔ وہیں دوسری طرف ملک میں مہلک وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 822 تک جاپہنچی ہے جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد 38 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ https://urdu.geo.tv/latest/221534-